تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 862

تذکار مہدی — Page 159

تذکار مهدی ) 159 روایات سید نا محمودی علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا پھر وہ آپ کے پاس ہی رہ پڑا۔اس کے رشتہ دار اسے لینے کے لئے بھی آئے مگر اس نے جانے سے انکار کر دیا۔وہ اپنی دماغی کیفیت کی وجہ سے دین سے اس قدر ناواقف تھا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے اس سے پوچھا تمہارا کیا مذہب ہے تو اس نے کہا مجھے تو پتا نہیں ہمارے پنچوں کو معلوم ہوگا ان کو آپ لکھیں وہ بتادیں گے۔حضرت خلیفہ اول نے اسے نماز پڑھنے کے لئے کہا اور چونکہ بہت معمولی سمجھ کا آدمی تھا نماز کا شوق دلانے کے لئے اسے کہا اگر تم پانچ وقت کی نمازیں پڑھ لو تو دوروپے دوں گا۔اس نے کہا میں نماز میں کیا پڑھوں آپ نے بتایا تم سبحان الله - سبحان اللہ کہتے رہنا وہ مغرب کی نماز کے لئے کھڑا ہوا تو اندر سے کسی خادمہ نے اسے آواز دی کہ کھانا لے جاؤ۔ایک دو آوازوں پر تو چپ رہا پھر کہنے لگا ذرا ٹھہرو نماز پڑھ لوں تو آتا ہوں۔یہ تو اس کی حالت تھی۔اس زمانہ میں احمدیت کی مخالفت ہوتی تھی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سٹیشن پر جا کر لوگوں کو قادیان جانے سے روکا کرتے تھے۔کبھی کبھی حضرت صاحب کی تارلے کر یا کسی اور کام کے لئے وہ نوکر بھی جس کا نام پیرا تھا اسٹیشن پر جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب نے اسے کہا تو کیوں وہاں بیٹھا ہے یہاں چلا آ۔جب مولوی صاحب نے اسے بہت تنگ کیا تو اس نے کہا میں اور تو کچھ جانتا نہیں مگر اتنا پتہ ہے کہ مرزا صاحب یہاں سے گیارہ میل دور بیٹھے ہیں ان کے پاس تو لوگ جاتے ہیں اور تمہارے روکنے کے باوجود جاتے ہیں مگر تم یہاں روزا کیلئے ہی آتے ہو اورا کیلے ہی چلے جاتے ہو کوئی تو بات ہے کہ مرزا صاحب کے پاس لوگ آتے ہیں۔اب دیکھو وہ نصرت اور تائید کے الفاظ نہ جانتا تھا مگر یہ جانتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کے پاس جو لوگ آتے ہیں اور مولوی محمدحسین صاحب کے پاس نہیں جاتے تو اس میں کوئی خاص بات ہے بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی مائل ہو جاتا ہے یا صحیح پر چلنے والوں کے پاس ہی بیٹھتا ہے تو وہ بھی کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتا ہے۔( خطبات محمود جلد 11 صفحہ 305-304) حضرت مسیح موعود کا ماضی ہر ایک بدی بتدریج پیدا ہوتی ہے یہ کبھی نہیں ہوتا کہ ایک شخص رات کے وقت صادق سوئے اور صبح کو بدترین جھوٹ کا مرتکب ہو کر پہلے تو انسانوں پھر بھی جھوٹ نہ بولتا تھا اور اب خدا پر جھوٹ بولنے لگا۔اس کے مطابق ہم حضرت مرزا صاحب کی دعویٰ سے پہلے کی زندگی کو دیکھتے