تذکار مہدی — Page 123
تذکار مهدی ) 123 روایات سید نامحمودی گذر گئی۔جس وقت میں نے آپ کی وفات کی خبر سنی مجھ میں برداشت کی طاقت نہ رہی دوڑ کر اپنے کمرے میں گھس گیا اور دروازے بند کر لیے۔پھر ایک بے جان لاش کی طرح چار پائی پرگر گیا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔وہ آنسو نہ تھے ایک دریا تھا۔دنیا کی بے ثباتی ، مولوی صاحب کی محبت مسیح موعود اور خدمت مسیح کے نظارے آنکھوں کے سامنے پھرتے تھے۔دل میں بار بار خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے کاموں میں یہ بہت سا ہاتھ بٹاتے تھے اب آپ کو بہت تکلیف ہوگی اور پھر خیالات پر ایک پردہ پڑ جا تا تھا اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک دریا بہنے لگتا تھا۔اس دن میں نہ کھانا کھا سکا نہ میرے آنسو تھے حتی کہ میری لا ابالی طبیعت کو دیکھتے ہوئے میری اس حالت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی تعجب ہوا اور آپ نے حیرت سے فرمایا محمود کو کیا ہو گیا ہے اس کو تو مولوی صاحب سے کوئی ایسا تعلق نہ تھا یہ تو بیمار ہو جائے گا۔خیر مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات نے میری زندگی کے ایک نئے دور کو شروع کیا اس دن سے میری طبیعت میں دین کے کاموں میں اور سلسلہ کی ضروریات میں دلچسپی پیدا ہونی شروع ہوئی اور وہ بیج بڑھتا چلا گیا۔سچ یہی ہے کہ کوئی دنیا وی سبب حضرت استاذی المکرم مولوی نور الدین صاحب کی زندگی اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات سے زیادہ میری زندگی میں تغیر پیدا کرنے کا موجب نہیں ہوا مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات پر مجھے محسوس ہوا کہ گویا ان کی روح مجھ پر پڑی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات یا دایام انوار العلوم جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 368-367) 1908ء کا ذکر میرے لئے تکلیف دہ ہے وہ میری کیا سب احمدیوں کی زندگی میں ایک نیا دور شروع کرنے کا موجب ہو ا۔اس سال وہ ہستی جو ہمارے بے جان جسموں کے لیئے بہ منزلہ روح کے تھی اور ہماری بے نور آنکھوں کے لئے یہ منزلہ بینائی کے تھی اور ہمارے تاریک دلوں میں یہ منزلہ روشنی کے تھی ہم سے جدا ہو گئی۔یہ جدائی نہ تھی ایک قیامت تھی۔پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور آسمان اپنی جگہ پر سے ہل گیا۔اللہ تعالی گواہ ہے اس وقت نہ روٹی کا خیال تھا نہ کپڑے کا صرف ایک خیال تھا کہ اگر ساری دنیا بھی مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑ دے تو میں نہیں چھوڑوں گا اور پھر اس سلسلہ کو دنیا میں قائم کروں گا۔میں نہیں جانتا میں نے کس حد تک