تذکار مہدی — Page 122
تذکار مهدی ) 122 روایات سید نامحمود ہمارے سلسلہ میں سے ماسٹر عبدالحق فوت ہوئے ان کا ذکر کرتے وقت اب بھی مجھے رقت آ جاتی ہے حالانکہ ان کا ایک بیٹا بھی موجود ہے اور وہ ہنس ہنس کر ان کا ذکر کر لے گا لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ جیسا وہ کام کرتے تھے ایسا کام کرنے والا مجھے آج تک نہیں ملا۔وہ زندگی وقف کر کے قادیان چلے آئے تھے اور انگریزی میں ترجمہ کرنے کا کام اس تیزی سے کر سکتے تھے کہ میں اردو میں مضمون اتنی جلدی نہیں لکھ سکتا تھا۔اب چودھری ظفر اللہ خان صاحب ان کے قریب قریب کام کر لیتے ہیں مگر نہ تو انہوں نے ابھی زندگی وقف کی ہے اور وہ باہر رہتے ہیں اور نہ اس قدر تیزی سے کام کر سکتے ہیں۔افراد سلسلہ کی اصلاح وفلاح کے لئے دلی کیفیت کا اظہار۔انوار العلوم جلد 9 صفحہ 8-7 ) حضرت مولوی عبد الکریم کی وفات 1906 ء آیا۔مولوی عبدالکریم صاحب بیمار ہوئے میری عمر سترہ سال کی تھی اور ابھی کھیل کود کا زمانہ تھا۔مولوی صاحب بیمار تھے اور ہم سارا دن کھیل کود میں مشغول رہتے تھے۔ایک دن یخنی لے کر میں مولوی صاحب کے لئے گیا تھا اس کے سوا یاد نہیں کہ کبھی پوچھنے بھی گیا ہوں۔اس زمانہ کے خیالات کے مطابق یقین کرتا تھا کہ مولوی صاحب فوت ہی نہیں ہو سکتے۔وہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد فوت ہوں گے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی طبیعت تیز تھی ایک دوسبق ان کے پاس الف لیلہ کے پڑھے پھر چھوڑ دیئے۔اس سے زیادہ ان سے تعلق نہ تھا۔ہاں ان دنوں میں یہ بخشیں خوب ہوا کرتی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دایاں فرشتہ کونسا ہے اور بایاں کونسا ہے۔بعض کہتے مولوی عبد الکریم صاحب دائیں ہیں بعض حضرت استاذی المکرم خلیفہ اول کی نسبت کہتے کہ وہ دائیں فرشتے ہیں علموں اور کاموں کا موازنہ کرنے کی اس وقت طاقت ہی نہ تھی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس محبت کی وجہ سے جو حضرت خلیفہ اول مجھ سے کیا کرتے تھے میں نور الدینیوں میں سے تھا۔ہم نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی دریافت کیا اور آپ نے ہمارے خیال کی تصدیق کی۔غرض مولوی عبدالکریم صاحب سے کوئی زیادہ تعلق مجھے نہیں تھا سوائے اس کے کہ ان کے پر زور خطبوں کا مداح تھا اور ان کی محبت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معتقد تھا مگر جو نہی آپ کی وفات کی خبر میں نے سنی میری حالت میں ایک تغیر پیدا ہوا۔وہ آواز ایک بجلی تھی جو میرے جسم کے اندر سے