تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 862

تذکار مہدی — Page 124

تذکار مهدی ) 124 روایات سید نا محمود اس عہد کو نباہا ہے مگر میری نیت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اس عہد کے مطابق میرے کام ہوں۔محمود کا خط تو میرے سے ملتا جلتا ہے یاد ایام۔انوار العلوم جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 368 ) میری تعلیم کے سلسلہ میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کا ہے۔آپ چونکہ طبیب بھی تھے اور اس بات کو جانتے تھے کہ میری صحت اس قابل نہیں کہ میں کتاب کی طرف زیادہ دیر تک دیکھ سکوں اس لئے آپ کا طریق تھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور فرماتے میاں میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں میری آنکھوں میں سخت گرے پڑ گئے تھے اور متواتر تین چار سال تک میری آنکھیں دکھتی رہیں اور ایسی شدید تکلیف گروں کی وجہ سے پیدا ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کی بینائی ضائع ہو جائے گی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری صحت کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی شروع کر دیں اور ساتھ ہی آپ نے روزے رکھنے شروع کر دیئے۔مجھے اس وقت یاد نہیں کہ آپ نے کتنے روزے رکھے بہر حال تین یا سات روزے آپ نے رکھے جب آخری روزے کی افطاری کرنے لگے اور روزہ کھولنے کے لئے منہ میں کوئی چیز ڈالی تو یکدم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی کہ مجھے نظر آنے لگ گیا ہے لیکن اس بیماری کی شدت اور اس کے متواتر حملوں کا نتیجہ یہ ا کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ماری گئی چنانچہ میری بائیں آنکھ میں بینائی نہیں ہے۔میں رستہ تو دیکھ سکتا ہوں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتا۔دو چار فٹ پر اگر کوئی ایسا آدمی بیٹھا ہو جو میرا پہچانا ہو ا ہو تو میں اس کو دیکھ کر پہچان سکتا ہوں لیکن اگر کوئی بے پہچانا بیٹھا ہو تو مجھے اس کی شکل نظر نہیں آ سکتی۔صرف دائیں آنکھ کام کرتی ہے مگر اس میں بھی سگرے پڑ گئے اور وہ ایسے شدید ہو گئے کہ کئی کئی راتیں میں جاگ کر کاٹا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے استادوں سے کہہ دیا تھا کہ پڑھائی اس کی مرضی پر ہوگی۔یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اس پر زور نہ دیا جائے کیونکہ اس کی صحت اس قابل نہیں کہ پڑھائی کا بوجھ برداشت کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بارہا مجھے صرف یہی