تذکار مہدی — Page 101
تذکار مهدی ) 101 روایات سید نامحمود بات سن کر فرمایا کہ تمہاری خواب پوری ہو گئی۔پھر وہ بھی دن تھے کہ چوک میں یہاں آجکل موٹریں گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔اس کے سامنے لوگ جانور باندھنے کے لئے کیلے گاڑ کر جانور باندھ دیتے تھے اور جب احمدی اندھیرے میں مہمان خانہ سے نماز کے لیئے آتے تو ٹھوکریں کھا کر گرتے۔مگر آج یہ زمانہ ہے کہ کہتے ہیں قادیان میں احمدی ظلم کرتے ہیں میں کہتا ہوں کہ مان لو احمدی ظلم کرتے ہیں مگر کیا یہ اللہ تعالیٰ کا نشان نہیں میں مان لیتا ہوں کہ احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل نہ کیا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی تو بہر حال ظاہر ہے مانا کہ ہم ظالم ہو گئے مگر اس ظلم کی توفیق کا ہمیں ملنا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کا پورا ہونا ہے۔تم ہمیں ظالم مان لو۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تو ایمان لے آؤ۔( الفضل 14 / دسمبر 1939 ء جلد 27 نمبر 286 صفحہ 5) مخالفین کو مقدمہ کا خرچ معاف کر دیا میں چھوٹا تھا مگر مجھے مندرجہ ذیل واقعہ اچھی طرح یاد ہے اور اس لئے بھی وہ واقعہ اچھی طرح یاد ہے کہ اس کے متعلق مجھے بھی اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت رؤیا کے ذریعہ خبر دی تھی۔ایک دن ہم سکول سے واپس آئے تو احمدیوں کے چہروں پر ملال کے آثار تھے۔گول کمرہ اور دفتر محاسب کے درمیان جہاں مسجد کا دروازہ ہے ہم نے دیکھا کہ ہمارے بعض چچاؤں نے وہاں دیوار کھینچ دی ہے اس لئے ہم اندر سے ہو کر گھر پہنچے اور معلوم ہوا کہ یہ دیوار اس لئے پھینچی گئی ہے که تا احمدی نماز کیلئے مسجد میں نہ آسکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حکم دیا کہ ہاتھ مت اُٹھاؤ اور مقدمہ کرو۔آخر مقدمہ کیا گیا جو خارج ہو گیا اور معلوم ہوا کہ جب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود نالش نہ کریں گے کامیابی نہ ہوگی۔آپ کی عادت تھی کہ مقدمہ وغیرہ میں نہ پڑتے مگر یہ چونکہ جماعت کا معاملہ تھا اور دوستوں کو اس دیوار سے بہت تکلیف تھی اس لئے آپ نے فرمایا کہ اچھا میری طرف سے مقدمہ کیا جائے۔چنانچہ مقدمہ ہوا اور دیوار گرائی گئی۔فیصلہ سے بہت پہلے میں نے رویا میں دیکھا تھا کہ میں کھڑا ہوں اور وہ دیوار توڑی جارہی ہے اور حضرت خلیفہ اسی الا ؤل بھی پاس ہی کھڑے ہیں اور پھر ایسا ہی ہوا۔جس دن سرکاری آدمی اسے گرانے آئے عصر کے بعد میں مسجد والی سیٹرھیوں سے اُترا عصر کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الاول درس دیا کرتے تھے، سخت بارش آئی اور