تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 862

تذکار مہدی — Page 102

تذکار مهدی ) 102 روایات سید نامحمود حضرت خلیفہ اول بھی شاید بارش کی وجہ سے یا یونہی وہاں آکر کھڑے ہو گئے۔اس دیوار کی وجہ سے جماعت کو مہینوں یا شاید سالوں تکالیف اٹھانی پڑیں کیونکہ انہیں مسجد تک پہنچنا مشکل تھا۔پھر مقدمہ پر ہزاروں روپیہ خرچ ہوا اور عدالت نے فیصلہ کیا کہ خرچ کا کچھ حصہ ہمارے چچاؤں پر ڈالا جائے۔کئی لوگ غصہ سے کہہ رہے تھے کہ یہ بہت کم ڈالا گیا ہے ان کو تباہ کر دینا چاہئے۔جب اس ڈگری کے اجراء کا وقت آیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور میں تھے۔آپ کو عشاء کے قریب رؤیا یا الہام کے ذریعہ بتایا گیا کہ یہ بار اُن پر بہت زیادہ ہے اور اس کی وجہ سے وہ تکلیف میں ہیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ مجھے رات نیند نہیں آئے گی اسی وقت آدمی بھیجا جائے جو جا کر کہہ دے کہ ہم نے یہ خرچ تمہیں معاف کر دیا ہے۔مجھے اس معافی کی صورت پوری طرح یاد نہیں کہ آیا سب رقم معاف کر دی تھی یا بعض حصہ۔بچپن کا واقعہ ہے اس لئے اس کی ساری تفاصیل یاد نہیں رہیں مگر اتنا یاد ہے کہ فرمایا مجھے رات نیند نہیں آئے گی اسی وقت کسی کو بھیج دیا جائے جو جا کر کہہ دے کہ یہ رقم یا اس کا بعض حصہ جو بھی صورت تھی تم سے وصول نہ کیا جائے گا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ مومن کا رحم اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ خطبات محمود جلد 17 صفحہ 485-484) دوسرا خیال بھی نہیں کرسکتا۔اونٹ چالیس اور ٹو ڈا پتالیس عرصہ ہوا جب کہ پہلے پہل میں نے چند ایک دوستوں کے ساتھ مل کر رسالہ تشحید الا ذہان جاری کیا تھا۔اس رسالہ کو روشناس کرانے کے لئے جو مضمون میں نے لکھا جس میں اس کے اغراض و مقاصد بیان کئے گئے تھے وہ جب شائع ہوا تو حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور اس کی خاص تعریف کی اور عرض کیا کہ یہ مضمون اس قابل ہے کہ حضور اسے ضرور پڑھیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسجد مبارک میں وہ رسالہ منگوایا اور غالباً مولوی محمد علی صاحب سے وہ مضمون پڑھوا کر سنا اور تعریف کی لیکن اس کے بعد جب میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے ملا تو آپ نے فرمایا! میاں تمہارا مضمون بہت اچھا تھا مگر میرا دل خوش نہیں ہوا اور فرمایا کہ ہمارے وطن میں ایک مثل مشہور ہے کہ اونٹ چالی اور ٹو ڈا بتائی اور تم نے یہ مثل پوری نہیں کی۔میں تو اتنی پنجابی نہ جانتا تھا کہ اس کا مطلب سمجھ سکتا اس لئے میرے چہرہ پر حیرت کے آثار دیکھ کر آپ نے فرمایا۔