رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 24 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 24

24 24 پوچھنے پر بتایا کہ میں نے دومست اونٹ دیکھے تھے جو مجھ پر حملہ آور تھے۔اس واقعہ میں رسول خدا ﷺ کی جرات بھی نظر آتی ہے اور توکل علی اللہ بھی۔آپ نے ایک نیک مقصد کی خاطر اپنی عزت کو خطرہ میں ڈال دیا اور سرخرو ہو کر لوٹے۔☆ اسلام کے ابتدائی دور کی بات ہے۔جب مکہ میں رفتہ رفتہ اسلام الله پھیلنے لگا تو رؤسائے مکہ نے سوچا کہ ہم لالچ اور دباؤ کے ذریعہ اس پیغام کو ہمیشہ کے لیئے دبا دیں۔وہ رسول پاک ﷺ کے چا ابو طالب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو اس کام سے روکیں۔اگر وہ عزت کا خواہاں ہے تو ہم اسے سردار بنانے کو تیار ہیں، دولت کا آرزومند ہے تو ہم اس کے لیئے دولت کا انبار لگا دیتے ہیں اگر شادی کی خواہش ہے تو اسکی پسند کی خوبصورت عورت سے شادی کرا دیتے ہیں لیکن ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ وہ تو حید کی منادی کرے اور ہمارے بتوں کو بڑا بھلا کہے۔انہوں نے ابو طالب سے مطالبہ کیا کہ یا تم اپنے بھتیجے کو اس بات سے روکو ورنہ اسے اپنی پناہ سے آزاد کر دو یا پھر اپنی سرداری سے ہاتھ دھو لو۔ابو طالب نے یہ بات آپ سے بیان کی تو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ علیہ نے جرات و استقامت اور توکل علی اللہ کا بے نظیر مظاہرہ فرمایا۔آپ نے فورا فرمایا : چا ! آپ میری وجہ سے اپنے آپ کو مشکل میں نہ ڈالیں۔آپ بیشک میرا ساتھ چھوڑ دیں۔جہاں تک میرا تعلق ہے میرا خدا میرے ساتھ ہے وہ کبھی میرا ساتھ نہ چھوڑے گا۔اور اے میرے چا! میں یہ بھی آپ کو بتا