رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 25 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 25

25 دوں کہ میں تو اپنے مولیٰ کا ہو چکا ہوں وہی میرا سہارا اور معین و مددگار ہے۔مجھے ان دنیا وی سہاروں اور وجاہتوں کی قطعاً ضرورت نہیں۔جن چیزوں کی پیشکش یہ کر رہے ہیں ان کی کیا حیثیت ہے؟ یہ لوگ اگر سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر اور چاند کو بائیں ہاتھ پر لا کر رکھ دیں اور پھر مجھ سے یہ چاہیں کہ میں توحید کی منادی سے رک جاؤں تو بخدا یہ بات کبھی نہ ہو سکے گی۔میں زندگی کے آخری سانس تک تو حید کی منادی کرتا چلا جاؤں گا اور اسی راہ میں ساری زندگی قربان کر دوں گا۔تو کل اور استقامت کا یہ اعلان سن کر ابوطالب کی خوابیدہ فطرت بیدار ہو گئی۔آپ نے کہا : اے میرے بھتیجے! جا اور اپنا فرض ادا کرتا رہ۔قوم اگر مجھے چھوڑ نا چاہتی ہے تو بے شک چھوڑ دے لیکن میں تجھے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔(سيرة ابن هشام ـ الجزء الاول ذكر ما دار بين الرسول ﷺ وابي طالب) حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کے موقعہ پر بھی رسول کریم ﷺ کے تو کل علی اللہ کی عجیب شان نظر آتی ہے۔حضرت عمر آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلے۔راستہ میں بہن اور بہنوئی کے مسلمان ہونے کی خبر ملی تو فوراً ان کا رخ کیا اور سورہ طہ کی ابتدائی آیات پڑھنے سے یکدفعہ دل کی کایا پلٹ گئی۔اسی طرح ننگی تلوار ہاتھ میں لئے دار ارقم پہنچے جہاں رسول پاک ﷺ صحابہ کے ساتھ موجود تھے۔صحابہ نے اس دشمنِ