رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 23 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 23

23 بڑھانے کی فکر میں لگ جاتا کہ کہیں یہ دولت کم نہ ہو جائے لیکن رسول خدا ﷺ کی سوچ با لکل مختلف تھی۔بن مانگے کثیر دولت پانے پر آپ کا دل اس خدا کے شکر سے لبریز ہو گیا جو ہر خیر و برکت اور دولت کا عطا کرنے والا ہے۔آپ کا دل اس یقین سے بھر گیا کہ جس خدا نے آج دیا ہے وہ کل بھی دینے پر قادر ہے اور اسکے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے شکر گزاری کے جذبہ سے سب غلاموں کو آزاد کر دیا اور ساری دولت ضرورت مندوں میں تقسیم کر دی ! منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے کی بات ہے آپ نے مجلس حلف الفضول میں اس غرض سے شمولیت فرمائی کہ مظلوموں کی مدد کی جا سکے اور انہیں ان کا حق دلایا جائے۔دعوی نبوت کے بعد مکہ کے سردار ابو جہل نے آپ کی مخالفت میں طوفان کھڑا کیا ہوا تھا۔ابو جہل کے ایک قرض خواہ نے اس سے قرض کا مطالبہ کیا تو اس کے انکار پر وہ رؤسائے مکہ کے پاس دادرسی کے لیئے آیا۔کسی نے شرارت سے کہا کہ محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور معاہدہ کے حوالے سے کہو کہ میرا حق دلایا جائے۔لوگوں کا خیال تھا کہ یا تو آپ ڈر جائیں گے اور مدد سے انکار کر کے وعدہ شکنی کے مرتکب ہوں گے اور یا ابو جہل آپ کو ذلیل و رسوا کرے گا۔وہ شخص آپ کے پاس آیا اور مدد کی درخواست کی۔آپ فورا مظلوم کی مدد پر کمر بستہ ہو گئے اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے بڑے حوصلہ اور عزم سے گئے اور ابو جہل کو کہا کہ اس قرض خواہ کی رقم ادا کر و۔آپ نے کچھ ایسے انداز میں یہ بات کہی کہ وہ مرعوب ہو گیا اور فوراً ادائیگی کر دی۔لوگوں کے