رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 58
58 آ گیا ہے کہ آپ کی آواز اس تک پہنچ سکتی ہے اور آپ تیر کی زد میں آگئے ہیں مگر آپ ہیں کہ گھبراہٹ کا محسوس کرنا تو الگ رہا قرآن شریف پڑھتے جاتے ہیں۔ادھر حضرت ابو بکر بار بار دیکھتے جاتے ہیں کہ اب دشمن کس قدر نز دیک پہنچ گیا ہے۔کیا اس بھروسہ اور تو کل کی کوئی اور نظیر بھی مل سکتی ہے۔کیا کوئی انسان ہے جس نے اس خطرناک وقت میں ایسی بے تو جہی اور لا پرواہی کا اظہار کیا ہو۔اگر آپ کو دنیاوی اسباب کے استعمال کا خیال بھی ہوتا تو کم سے کم اتنا ضرور ہونا چاہئے تھا کہ آپ اس وقت یا تو سراقہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے یا وہاں سے تیز نکل جانے کی کوشش کرتے لیکن آپ نے ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں اختیار کی۔نہ تو آپ تیز قدم ہوئے اور نہ ہی آپ نے بی ارادہ کیا کہ کسی طرح سراقہ کو مار دیں بلکہ نہایت اطمینان کے ساتھ بغیر اظہارِ خوف وہراس اپنی پہلی رفتار پر قرآن شریف پڑھتے ہوئے چلے گئے۔وہ کون سی چیز تھی جس نے اس وقت آپ کے دل کو ایسا مضبوط کر دیا۔کونسی طاقت تھی جس نے آپ کے حوصلہ کو ایسا بلند کر دیا۔کونسی روح تھی جس نے آپ کے اندر اس قسم کی غیر معمولی زندگی پیدا کر دی؟ یہ خدا پر توکل کے کرشمے تھے اس پر بھروسہ کے نتائج تھے۔آپ جانتے تھے کہ ظاہری اسباب میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔دنیا کی طاقتیں مجھے ہلاک نہیں کر سکتیں کیونکہ آسمان پر ایک خدا ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے جو ان سب اسباب کا پیدا کر نیوالا ہے پس خالق اسباب کے خلاف اسباب کچھ نہیں کر سکتے“ (انوار العلوم جلد اوّل صفحہ 493)