رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 57
57 یقین تھا کہ کائنات کا خدا میرے ساتھ ہے اس کے حکم اور اس کی اجازت سے میں اس سفر پر نکلا ہوں اور وہی ہر جگہ میرا محافظ ہے! اس بات نے سراقہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور وہ ساری عمر اس بات کو نہ بھول سکا اور اپنی روایت میں بطور خاص اس بات کا ذکر کیا۔اس موقعہ پر آپ کے یار غار پر کیا گزری؟ سراقہ نے بیان کیا کہ جب میں دونوں کے اتنا قریب آگیا کہ مجھے تلاوت کی آواز سنائی دینے لگی اور آپ اب میرے نشانہ کی زد میں تھے تو غم کے مارے ابو بکر کا یہ حال تھا کہ آپ اپنے محبوب کی جان کے خوف سے بار بار پلٹ کر دیکھتے سخت اضطراب اور پر یشانی آپ پر طاری تھی۔حضرت ابو بکر خودروایت کرتے ہیں کہ میں جذبات خوف سے مغلوب ہو گیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اب تو پکڑنے والا بالکل سر پر آ پہنچا ہے اور میں اپنے لئے نہیں بلکہ آپ کی خاطر فکرمند ہوں۔اس پر ایک بار پھر آپ کی زبانِ مبارک سے وہی بابرکت کلمات نکلے جن سے آپ کی روح کا خمیر اٹھایا گیا تھا۔آپ نے فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا کہ اے ابو بکر ہر گز غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔دشمن ہمارے سر پر آ گیا ہے تو پھر بھی گھبراؤ نہیں ،سب قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہمارا خدا اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایسا حتمی یقین اور کامل تو کل علی اللہ صرف اور صرف ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی علی کو عطا کیا گیا تھا! حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ پر بہت حقیقت افروز تبصرہ کیا ہے۔آپ ہی کے الفاظ میں عرض کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: اللہ اللہ اخد اتعالیٰ پر کیسا بھروسہ ہے۔دشمن گھوڑا دوڑا تا ہوا اس قدر نزدیک