رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 59
59 لا تحزن ان الله معنا کے جن الفاظ میں نبی پاک ﷺ نے اپنے جانثار اور غمخوار ساتھی حضرت ابو بکر کو تسلی دی اور جن کو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے قرآن مجید میں محفوظ فرما دیا ہے ان میں بھی آپ کے تو کل کی عظیم شان مضمر ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر مشکل وقت آیا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا تھا کہ گھبراؤ نہیں۔إِنَّ مَعِيَ رَبِي سَيَهْدِينِ (الشعراء: 63) یقیناً میر ارب میرے ساتھ ہے وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔لیکن واقعہ ہجرت میں جب پے در پے انتہائی خطرناک مواقع آئے تو آپ نے ہر بار اپنے ساتھی سے یہی فرمایا۔لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا : (سوره توبه : 40) کہ گھبراؤ نہیں۔خدا ہمارے ساتھ ہے۔صلى الله اس جگہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور رسول پاک ﷺ کے بظاہر ایک جیسے الفاظ میں بلحاظ ذاتی عجز و انکسار ایک عظیم الشان فرق ہے جو ہمارے محبوب آقا ﷺ کی عظمت شان کو خوب اجاگر کرتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھ ہونے (معیت) کا ذکر پہلے کیا ہے اور رب کا ذکر بعد میں آیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے کی عاجزانہ اور حسین اداد یکھئے کہ آپ کی زبان مبارک پر پہلے اللہ کالفظ آتا ہے اور معیت کا ذکر بعد میں۔اس میں ایک لطیف نکئیہ معرفت ہے جو آپ ﷺ کی پاکیزہ سوچ کا غماز ہے! اس تسلسل میں یہ بات بھی بہت ایمان افروز ہے کہ آپ کو خدائے قادر کی جس معیت کا وعدہ دیا گیا اس کا دائرہ آپ کے ساتھی کو بھی اپنے اندر لئے ہوئے تھا۔معیت کا یہ وعدہ حضرت ابو بکر کی زندگی میں بھی نہایت عظمت اور شان سے پورا ہوا اور آج بھی ہو رہا ہے۔اس سفر ہجرت