رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 52
52 59 یعنی ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کے کپتان کی طرح رسول پاک ﷺ نے اس وقت تک جہاز کو نہ چھوڑا جب تک عملہ کے سب افراد پوری طرح محفوظ نہ ہو گئے! اس مصنف نے نہایت شاندار انداز میں آپ کی جرات ، استقامت اور توکل علی اللہ کو کتنا عظیم خراج عقیدت پیش کیا ہے۔حق یہ ہے کہ آپ اس دین کے پیغمبر اور اس پیغام کے علمبر دار تھے جس کا محافظ و دخدا تھا۔اور اسی خدا پر کامل تو کل اور بھروسہ کی بناء پر آپ پورے یقین اور اطمینان کے ساتھ ، جرات و استقامت کا پیکر بنے آخری وقت تک مکہ کی بستی میں قیام پذیر رہے۔پھر جن حالات اور جس انداز میں آپ نے ہجرت فرمائی اس میں قدم قدم پر تو کل علی اللہ کے ایمان افروز مناظر نظر آتے ہیں۔جو نہی آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا اذن ملا آپ فوراً اس ہجرت کے لئے تیار ہو گئے جبکہ حالت یہ تھی کہ ہر طرف موت کے سائے سر پر منڈلا رہے تھے۔چاروں طرف سے دشمنوں نے آپ کوگھیرا ہوا تھا۔لیکن آپ ان سب خطرات سے بے نیاز اپنے قادر و توانا مولیٰ پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے اس حال میں روانہ ہوئے کہ صرف ایک ساتھی آپ کا شریک سفر تھا۔کسی دنیاوی سہارا پر آپ کا بھروسہ نہ تھا۔بھروسہ تھا تو صرف ایک خُدا پر تھا جو بحر و بر کا مالک اور ہر جگہ حافظ و ناصر تھا۔روایت میں آتا ہے کہ آپ کو ہجرت کی اجازت دو پہر کے وقت ملی۔آپ کے توکل کی شان دیکھئے کہ آپ اسی وقت ، چلچلاتی دھوپ میں، اپنے گھر سے نکلے اور مخالفانہ ماحول میں سے گزرتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور انھیں اس بات