رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 51 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 51

51 ستم کا ہر وار آپ کے جانثار صحابہ پر کیا گیا۔مظالم کی ظالم چکی میں پیسے جانے کے باوجود آپ نے اور آپ کے صحابہ نے صبر و استقامت کے علم کو سر بلند رکھا۔ہر وقت نظریں آسمان کی طرف تھیں کہ کب اللہ تعالیٰ ان زہرہ گزار حالات سے مخلصی عطا فرماتا ہے۔مکہ میں حالات نازک ہوتے جا رہے تھے لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے مدینہ میں اسلام کا پودا لگ چکا تھا اور تیزی سے نشو نما پارہا تھا۔بذریعہ خواب آپ کو ہجرت کا اشارہ مل چکا تھا۔چنانچہ آپ نے صحابہ کو اجازت عطا فرمائی کہ وہ مدینہ ہجرت کر جائیں۔رفتہ رفتہ یہ مرحلہ آگیا کہ اب مکہ میں آپ کے ساتھ گنتی کے چندا فرادرہ گئے۔کفارِ مکہ نے دارالندوہ میں اکٹھے ہو کر یہ طے کیا کہ رات کے وقت آپ پر یکد فعہ حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیا جائے اور حملہ کرنے میں سب قبائل کے نمائندے شامل ہوں تا کہ سب سے انتقام نہ لیا جا سکے۔ادھر کفار نے یہ فیصلہ کیا، ادھر علام الغیوب خدا نے اپنے حبیب ﷺ کو کفار کے اس ارادہ کی اطلاع دیتے ہوئے ہجرت کی اجازت عطا فرما دی۔دنیا کے صاحبانِ اقتدار تو خطرہ کے وقت بھاگنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں اور رسول خدا ﷺ کا نمونہ یہ ہے کہ آپ نے سب کو پہلے بھجوایا اور خود آخر وقت تک مکہ میں مقیم رہے اور اُس وقت تک وہاں سے ہجرت نہ کی جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے اجازت نہ مل گئی۔یہ واقعہ اتنا عظیم ہے کہ ایک مشہور غیر مسلم مستشرق Stanley Lane-poole نے اس کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے۔وہ لکھتا ہے : Like the captain of a sinking ship, the Prophet would not leave till all the crew were safe۔(Studies in a mosque, 1966, Khayats Beirut, Page 60)