رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 53 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 53

53 33 سے مطلع فرمایا اور رات کو روانگی کا پروگرام طے کر کے واپس تشریف لائے۔دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے خطرناک حالات میں بڑے بڑے بہادروں پر کیا گزرتی ہے۔گھبراہٹ اور خوف سے نبضیں چھوٹنے لگتی ہیں لیکن رسول پاک و توکل علی اللہ کی وجہ سے اطمینان اور یقین کی دولت سے مالا مال اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف تھے۔مکہ کے لوگوں نے باوجود ہزار مخالفت کے اپنی امانتیں آخر وقت تک آپ کے پاس رکھوائی ہوئی تھیں۔آپ نے یہ سب امانتیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کیں اور مالکان کو واپس پہنچانے کی ہدایت دی تا کہ قیامت تک کو ئی شخص اس لاثانی امین اور صدیق پر انگشت نمائی نہ کر سکے۔اور انہیں اپنے بستر پر لٹا کر اللہ پر تو کل کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔تصور کی آنکھ سے دیکھئے وہ کیا نظارہ تھا۔آپ متنِ تنہا گھر سے روانہ ہوئے۔اور اس حالت میں نکلے کہ کفار مکہ نے گھر کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔جان کے دشمن اور خون کے پیاسے درندے اس ڈیوٹی پر کھڑے ہیں کہ آپ نکلیں اور وہ آپ کے سلسلہ ء حیات کو منقطع کر دیں۔اللہ کا بندہ ان کے سامنے سے گزرا اور کچھ ایسا تصرف اٹھی ہوا کہ وہ اسے دیکھ نہ سکے۔عبد کامل آسمانی فرشتوں کی حفاظت میں محفوظ و مامون نکل گیا اور کوئی اس کا بال بیکا نہ کر سکا۔ایسے تو کل علی اللہ اور نصرت الہی کی مثال باقی دنیا میں کہاں نظر آتی ہے! راستہ میں مقررہ جگہ پر حضرت ابو بکر سے ملے اور تین میل کا فاصلہ رات کی تاریکی میں پیدل طے کر کے آپ جبل ثور کی چوٹی پر ایک متروک غار میں پناہ گزین ہو گئے۔جہاں آپ نے تین رات قیام فرمایا۔دوسری طرف مکہ میں یہ حالت تھی کہ صبح جب کفار کو معلوم ہوا کہ آپ مکہ سے جاچکے