رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 32
32 32 بے مثال تو کل علی اللہ کا ایک درخشندہ نمونہ ہے۔☆ رسول خدا ﷺ کے توکل علی اللہ میں ہر پہلو سے ایک عجیب شان دلر بائی پائی جاتی ہے۔آپ اگر چاہتے تو اپنے لئے دنیاوی اموال و اسباب کے پہاڑا کٹھے کر لیتے لیکن آپ نے ایسا نہ کیا۔بلکہ اموال بکثرت آنے پر بھی اَلْفَقْرُ فَخْرِی کا متوکلانہ نعرہ بڑی شان سے لگایا اور یہی نمونہ آپ نے اپنی ازواج اور اولاد کے لئے چھوڑا۔آپ کی ساری زندگی اس بات پر شاہد ناطق ہے کہ آپ گو ہر مرحلہ پر اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل رہی اور جب بھی ضرورت پیش آئی اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر اس ضرورت کو پورا کیا۔ساری زندگی کا نچوڑ آپ کے سامنے تھا اور یہ یقین آپ کی روح کی پاتال تک اتر چکا تھا کہ جو معطی اور وھاب خدا میری ضروریات کا متکفل رہا ہے وہ میرے بعد میرے پسماندگان کا بھی متولی ہوگا۔خدا پر اس کامل تو کل کی وجہ سے آپ نے نہ پسند فرمایا نہ ضرورت محسوس کی کہ اپنے پسماندگان کے لئے دنیا کے اموال چھوڑ کر جائیں۔آپ کو خدا پر کامل تو کل تھا اور آپ تو کل کی یہ عظیم دولت ہی اپنے بعد ورثہ میں چھوڑ کر گئے۔یہ تو کل کا وہ اعلیٰ مقام ہے جس کی نظیر نہ جملہ انبیاء میں ملتی ہے اور نہ آپ جیسے تو کل والا کوئی انسان دنیا میں پیدا ہوا، نہ پیدا ہو سکتا ہے۔دنیا میں عام مشاہدہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس مال و دولت ہوتی ہے وہ اپنی صلى الله اولاد کے حق میں اسے وقف کر چھوڑتے ہیں۔رسول خدا ہے کے پاس دولت تو کبھی بھی جمع عليسة نہ ہوئی کیونکہ آپ ہمیشہ ہر چیز ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔لیکن خدا نے آپ کو