رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 33
33 33 حکومت اور اقتدار و اختیار سے بھی مالا مال کیا۔اگر آپ چاہتے تو دنیا کے لوگوں کی طرح اپنی اولاد کے لئے کوئی معین حصہ بیت المال کے مصارف میں مخصوص کر دیتے۔اگر چاہتے تو زکوۃ اور غزوات کے اموال غنیمت میں اپنی اولاد در اولا د کو بھی شامل کر دیتے لیکن آپ کی شان تو کل علی اللہ کا کیا ہی حسین نمونہ ہے کہ آپ نے اپنی اولاد کے لئے کوئی ایسا استثنائی قاعدہ قانون نہ بنایا۔با غیرت اور متوکل دل جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا تھا وہ کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ اپنی اولا د کو دیگر پیروکاروں پر اس پہلو سے ترجیح دے۔پھر یہ بھی عین ممکن تھا کہ مسلمان ، سادات کو صدقات کا اولین حقدار سمجھ لیتے اور سادات بھی انہی صدقات کو اپنا ذریعہ معاش سمجھ لیتے۔اس کی پیش بندی کے طور پر ہمارے حسن آقا ﷺ نے یہ بھی فرما دیا کہ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَنْبَغِي لِآلِ مُحَمَّدٍ (مسلم کتاب الزکواة، باب ترک استعمال آل النبي على الصدقة ) یعنی میری ذریت و نسل کے لئے صدقہ و خیرات کی کوئی رقم لینا جائز نہ ہوگا۔اس طرح آپ نے اپنی جسمانی ذریت کو اور ان کے حوالہ سے ساری روحانی ذریت کو بھی عزت نفس اور تو کل کا کیسا عمدہ سبق دیا اور ان کو خود محنت کرنے اور رزق حلال کما کر زندگی بسر کرنے کا راستہ دکھایا۔آپ کے اس نمونہ میں سادات کے لئے یہ درس نصیحت بھی شامل ہے کہ اگر ایک متقی کی سات نسلوں تک خدا تعالیٰ رعایت رکھتا ہے تو وہ خدا خاتم المتقین ﷺ سے نسبت رکھنے والوں کا قیامت تک متکفل رہے گا بشرطیکہ وہ اس نسبت میں بچے اور وفا دار ٹھہر ہیں۔مسیلمہ کذاب کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی رسول پاک ﷺ کی شان ☆