رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 31 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 31

31 آپ نے دینی غیرت کے جوش میں اور اللہ تعالیٰ کی غالب تائید و نصرت پر کامل تو کل کے نتیجہ میں بڑے جوش سے فرمایا: 66 ” خدا خودان لوگوں کو پارہ پارہ کرئے“ (البخارى كتاب الجهاد باب دعوة اليهودي والنصراني و على صلى الله ما يقاتلون عليه وما كتب النبی الله الی کسری و قیصر) اس کے بعد کسری نے یمن کے گورنر کے ذریعہ آپ کو گرفتار کرنے کے لئے دو سپاہیوں کو خط دے کر مدینہ بھجوایا۔آپ نے خط کا مضمون سنا۔جس میں لکھا تھا کہ فی الفور اپنے آپ کو ان لوگوں کے سپرد کر دیں۔اس خطرناک موقع پر آپ نے کسی گھبراہٹ کا اظہار کئے بغیر ان لوگوں سے فرمایا کہ تم آج رات یہاں ٹھہرو میں انشاء اللہ تمہیں کل جواب دوں گا۔اس رات خدا کے متوکل بندے نے اپنے مولیٰ سے کیا مناجات کیں، یہ کسی کو معلوم نہیں۔لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ اسی رات خدائے ذوالجلال نے اپنی طاقت وقدرت کا عظیم الشان جلوہ دنیا کو دکھایا۔صبح ہوئی تو آپ نے ان نمائندوں کو فرمایا : دو تم واپس چلے جاؤ اور اپنے آقا والئی یمن سے جا کر کہہ دو کہ میرے رب نے آج رات تیرے رب یعنی کسری کو قتل کر دیا ہے!“ صل الله (الخصائص الكبرى الجزء الثاني صفحه ۱۰ باب ما وقع عند كتابه عالی کسری وہ لوگ یہ بات سن کر ہکا بکا رہ گئے اور واپس چلے گئے۔بعد میں معلوم ہوا کہ اسی رات خسرو پرویز کو اس کے بیٹے شیرویہ نے قتل کر دیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی بات لفظا لفظاً پوری ہوئی۔یہ عظیم الشان واقعہ اللہ تعالیٰ کی غالب قدرت کا اور رسول خدا ﷺ کے