رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 34 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 34

34 تو کل علی اللہ ایک عجیب انداز میں اجاگر کرتا ہے۔یہ جھوٹا مدعی نبوت آپ کی زندگی میں ایک لشکر جرار لے کر مدینہ آیا اور آپ سے درخواست کی کہ اگر آپ اسے اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دیں تو وہ اپنی جماعت سمیت آپ کی اطاعت کرنے کو تیار ہے۔اگر کوئی دنیاوی مشن کا علمبر دار ہوتا ، دنیاوی و جاہت کا طالب ہوتا یا دنیاوی عزت و توقیر کا متمنی ہوتا تو فوراً یہ پیشکش مان لیتا لیکن ہمارے آقا حضرت محمد مصطفے ﷺ نے اس کی بات سنتے ہی اس کو رڈ فرما دیا۔اور کھجور کی شاخ سے ایک چھوٹا سا تنکا اتار کر اسکی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے جلال سے فرمایا: لَوْ سَاَلْتَنِي هَذَا الْعَسِيْبَ مَا أَعْطَيْتُكَه (سيرة ابن هشام الجزء الرابع صفحه ۱۲۳ ذکر ما حدث بين الرسول ومسيلمة) اگر اس ایک تنکا کے بدلہ میں مجھے تیری حمایت مل سکتی ہو اور تو اس کا سوال کرتا تو میں یہ ایک تنکا بھی تجھے دینے کو تیار نہیں۔اللہ ! اللہ ! کیا شان ہے ہمارے آقا و مولی کے توکل علی اللہ کی۔یہ شان تو کسی اور نبی کی زندگی میں بھی نظر نہیں آتی ! آپ کے عظیم تو کل کی شان اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ اگر آپ چاہتے تو اسی وقت مسیلمہ کذاب کو پکڑ کر مروا دیتے کیونکہ وہ اس وقت مدینہ میں آیا ہوا تھا اور آپ کے ہاتھ کے نیچے تھا لیکن اس معاملہ میں بھی آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا کہ خدا خود ہی اس جھوٹے کو اپنے دستِ قدرت سے ہلاک کر دے گا۔تو کل علی اللہ کے اس شاندار نمونہ کا تذکرہ حضرت مصلح موعودؓ کے الفاظ میں سینیے۔فرماتے ہیں: