رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 35
35 وہ میرا پیارا زمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا۔بڑھتے ہوئے لشکر اور دوڑتے ہوئے گھوڑے، اٹھتے ہوئے نیزے اور چمکتی ہوئی تلوار میں اس کی آنکھوں میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھیں وہ ملائکہ آسمانی کا نزول دیکھ رہا تھا اور زمین و آسمان کا پیدا کنندہ اس کے کان میں ہر دم تسلی آمیز کلام ڈال رہا تھا اس کا دل یقین سے پر اور سینہ ایمان سے معمور تھا۔غرضیکہ بجائے دنیاوی اسباب پر بھروسہ کرنے کے اس کا تو کل خدا پر تھا۔پھر بھلا ان مصائب سے وہ کب گھبر اسکتا تھا اس نے مسیلمہ اور اس کے لشکر پر بھروسہ کرنا ایک دم کے لئے بھی مناسب نہ جانا اور صاف کہہ دیا کہ خلافت کا دھوکہ دے کر تجھے اپنے ساتھ ملانا اور تیری قوم کی اعانت حاصل کرنی تو علیحدہ امر ہے ایک کھجور کی شاخ کے بدلہ میں بھی اگر تیری حمایت حاصل کرنی پڑے تو میں اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھوں۔اس غیور دل کی حالت پر غور کرو۔اس متوکل انسان کی شان پر نظر ڈالو۔اس یقین سے پر دل کی کیفیت کا احساس اپنے دلوں کے اندر پیدا کر کے دیکھو کہ کس یقین اور توکل کے ماتحت وہ مسیلمہ کو جواب دیتا ہے۔کیا کوئی بادشاہ ایسے اوقات میں اس جرأت اور دلیری کو کام میں لاسکتا ہے۔کیا تاریخ کسی گوشت اور پوست سے بنے ہوئے انسان کو ایسے مواقع میں سے اس سلامتی سے نکلتا ہوا دکھا سکتی ہے۔اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ آپ کی زندگی سے مقابلہ کرنا ہی غلط ہے کیونکہ آپ نبی تھے اگر آپ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے تو انبیاء سے مگر جوشان آپ کو حاصل ہے اس کی نظیر انبیاء میں بھی نہیں مل سکتی کیونکہ