تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 71 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 71

64 لگی ہوئی ہے۔ایسی کل 8 انگیٹھیاں بنی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔(بیت) میں قریباً دوسو نمازیوں کی گنجائش ہے۔فرش پر ایک نیلا قالین بچھا ہوا ہے جو خان بہادر سیٹھ الہ دین صاحب حیدر آبادی کا عطیہ ہے اور جس کی قیمت سو (100) پاؤنڈ ہے۔جماعت حیدر آباد دکن نے پہلے سال کی روشنی کا خرچ اپنے ذمہ لیا ہے۔گنبد اور تمام عمارت سفید اور بلند ہونے کی وجہ سے دُور دُور سے نظر آتی ہے۔خصوصاً ریلوے مسافروں کے لئے جو ہر وقت اس کے پاس سے گزرتے رہتے ہیں بہت ہی دلکش نظارہ ہے۔اس مکان کی تعمیر پر چار ہزار پاؤنڈ یعنی 60 ہزار روپیہ کی لاگت آئی۔اور اس کی تکمیل پر قریباً دس ماہ خرچ ہوئے۔عمارت۔۔۔(بیت) کی اس طرح بنائی گئی ہے کہ پہلے تمام ڈھانچہ فولادی گرڈروں سے تیار کر کے بعد میں اینٹوں سے عمارت چن دی گئی ہے اور اوپر اعلیٰ قسم کے سفید سیمنٹ کا پلستر کر دیا گیا ہے۔ٹھیکیداروں کے نام یہ ہیں:- (1) میسرز رونی اینڈ سنز ( Messrs Roofi & Sons) جنرل کنٹریکٹر (2) میسرز جان بوتھ اینڈ سنز ( Messrs John Booth & Sons) فولادی حصہ کا ٹھیکیدار (3) سیلف سنٹرنگ آکس بینڈ وئیل کمپنی لمیٹڈ Self Centering Arch۔Bend & Hail Co۔Ltd میناروں اور گنبد میں جو لوہا لگا ہے اس کے ٹھیکیدار (4) میسرز ٹرفٹن اینڈ ینگ۔Messrs Trifton & Young) بجلی کے ٹھیکیدار (5) میسرز تھامس ماسن اینڈ سنز Messrs Thomas Mason & Sons انجينر