تواریخ مسجد فضل لندن — Page 70
63 تمام عمارت میں ایک ہی دروازہ ہے اور اس دروازہ کے دونوں پہلوؤں میں ایک ایک پتلی اور لمبی کھڑکی روشنی کے واسطے ہے جس میں شیشے لگے ہوئے ہیں۔اسی طرح محراب کے دونوں طرف ایک ایک ہر دو پہلو کی دیواروں میں چار خانے کی کھڑکیاں لگی ہیں محراب جہاں کھڑے ہو کر امام نماز پڑھاتا ہے۔نیم دائرہ کی شکل میں آگے کو بڑھا ہوا ہے اور اسی محراب کی بیرونی جانب وہ سنگِ بنیاد ہے جسے حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے 1924ء میں نصب کیا تھا۔گنبد صرف عمارت کے اس نصف حصہ پر ہے جو دروازہ کی طرف ہے۔عمارت کے وسط میں نہیں ہے اور قریباً 50 فٹ بلند گنبد کے چاروں طرف او پر پانچ پانچ روشندان لگے ہوئے ہیں۔بیت کے چاروں کونوں پر اتنے بڑے برجی دار مینارے بنے ہوئے ہیں جن میں مؤذن آسانی سے کھڑا ہو کر آذان کہہ سکتا ہے۔بیت کے دروازہ پر بیرونی جانب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام فارسی خط میں تحریر ہے۔ہے۔”امن است در مکانِ محبت سرائے ما اور اس سے کچھ اوپر موٹے عربی خط میں کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ نہایت خوبصورت منقش ہے۔دورازہ کھول کر اندر جاتے ہی دونوں طرف پینچ لگے ہوئے نظر آتے ہیں یہ جگہ بُوٹ اور جوتیاں اُتارنے کے لئے ہے۔اس حصہ کو ایک آہنی زنجیر سے الگ کیا ہوا ہے اور پہلی دیوار پر کپڑے لٹکانے کی کھونٹیاں لگی ہوئی ہیں۔پہلو کی دونوں دیواروں میں ہر ایک کھڑکی کے پاس ایک فولادی انگیٹھی جس میں گیس جلتی ہے بیت کو گرم رکھنے کے لئے