تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 12 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 12

10 مقرر ہیں۔قادیان میں اکثر ضروری امور میں مجلس شوری سے مشورہ لیا جاتا ہے۔خود حضرت خلیہ اسیح مجلس شوری سے مشورہ لینے کے بعد کسی کام کا فیصلہ فرماتے ہیں۔ہر سال خدا کے فضل سے آمد اور خرچ میں ترقی ہے۔قادیان میں ایک عظیم الشان لائبریری۔ایک مذہبی کالج اور ایک ہائی سکول ہے۔ایک مہمان خانہ ہے جس سے گزشتہ سال ڈیڑھ لاکھ کے قریب آدمیوں نے کھانا کھایا تھا۔مذہبی سالانہ جلسہ جو تعلیم اور وعظ کا رنگ دکھاتا ہے۔ہر سال دسمبر کے آخری ہفتہ میں ہوتا ہے۔گزشتہ جلسہ میں قریباً پندرہ ہزار آدمی شریک جلسہ ہوئے تھے۔قصبہ کی آبادی جو پہلے دو ہزار کے قریب تھی اب پانچ ہزار نفوس کے قریب ہو گئی ہے۔اور قصبہ اپنی پرانی حدود سے ایک میل آگے بڑھ گیا ہے اور بسرعت تمام ترقی کر رہا ہے۔قصبہ کے مرکز میں ایک بڑی ( بیت ) ہے۔جس میں (بانگ) اس سفید عالی شان عمارت پر دی جاتی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیشگوئی کو ظاہری طور پر پورا کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے جس میں مسیح موعود کے نزول کو ایک مشرقی مینارہ کے ساتھ وابستہ کیا گیا تھا۔علاوہ جلسہ سالانہ کے سال میں ایک دفعہ جماعت کے ضروری معاملات پر غور کرنے کے لئے ایک خاص مجلس عموماً ایسٹر کی رخصتوں کے ایام میں مقرر ہوتی ہے اور تین دن تک اس کا اجلاس تمام تمام دن رہتا ہے۔اور بعد پاس ہونے کے امور نفاذ کے لئے سیکرٹریوں کے سپرد کر دئے جاتے ہیں۔اس جلسہ کا نام مجلس مشاورت ہے۔اور مقامی اور بیرونی جماعتوں کے نمائندے اس میں شامل ہوتے ہیں۔جماعت احمدیہ تمام جماعت ایک باقاعدہ نظام کی صورت میں منسلک ہے۔جس کے امام حضرت خلیفہ ایچ ہیں اور ہر امر کی نسبت با قاعدہ محکمہ کھلا ہوا ہے۔