تواریخ مسجد فضل لندن — Page 13
11 جماعت کے اخلاص اور فرمانبرداری اور انضباط اور ایمانی جوش اور عملی قوت کی بابت کچھ ذکر اس جگہ بے جا نہ ہوگا۔حضرت مسیح کا کہنا۔’درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ایک ایسی مسلمہ صداقت ہے کہ ہم صرف اسی ایک معیار کو لے کر سلسلہ احمدیہ کی صداقت کو آسانی سے پرکھ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی عظمت۔اعلائے کلمۃ اللہ کا جوش۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور تمام انبیاء کی عزت۔قرآن اور حدیث سے محبت۔اشاعت (دین) کی لگن اور مخلوق خدا کے لئے ہدایت کی تڑپ ، نیکی ، تقویٰ اور پرہیز گاری ، اچھی معاشرت پاکدامنی علم کی خواہش ، بہترین شہری بننے کی کوشش۔امن کی طلب اور فتنہ فساد اور بغاوت اور شرارت کے طریقوں سے بچنے اور بچانے کی جد وجہد۔یہ باتیں ممتاز طور پر آپ کو اس جماعت میں نظر آئیں گی۔کئی احمدی آپ کو ایسے ملیں گے جو پہلے ڈاکو تھے ، چور تھے، ظالم تھے، غاصب تھے ، خائن تھے، بد دیانت تھے ، عیاش تھے ، بد چلن تھے ، مرتش تھے، دھوکہ باز تھے ، جواری تھے ، بے دین تھے ، مذہب سے تمسخر اور استہزاء کرتے تھے۔مفسد تھے۔مگر اس سلسلہ میں داخل ہونے کے بعد ان پر ایسا عظیم الشان تغیر آیا۔اور ان کی ایسی کایا پلٹی گئی کہ آج ان کی نیکی اور پرہیز گاری دیانت اور امانت مخلوق پر شفقت اور خدا سے محبت پر ان کے دشمن بھی قسمیہ شہادت دے سکتے ہیں۔بہت سے اُن پڑھ آپ کو ایسے ملیں گے کہ ان کی معمولی باتیں معرفت سے لبریز ہوں گی اور ان کی ایک معمولی تقریر بڑے بڑے علماء کے چھکے چھڑا دے گی۔بکثرت ایسے ملیں گے جن کی دعاؤں کو آستانہ الوہیت میں شرف قبولیت حاصل ہے۔اور بہت سے وہ ہیں جن پر الہام و کشوف کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ان کے دل و دماغ علم و معرفت سے پُر ہیں۔وہ دنیا سے حقیقی طور پر بے تعلق ہیں۔گو بظاہر دنیا میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ان کا جو کچھ ہے