تأثرات

by Other Authors

Page 2 of 539

تأثرات — Page 2

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 2 دنیوی طریق نہیں بلکہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور پیارے مہدی علیہ السلام کا سکھایا ہوا طریق ہے۔یہ وہ مبارک طریق ہے جس کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: مبارک وہ ہے جو کامیابی اور خوشی کے وقت تقوی اختیار کرے۔66 ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 99 جدید ایڈیشن) شکر گزاری، تقوی اور طہارت کی راہیں اختیار کرلینے والوں کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا: تمہارا اصل شکر تقوای اور طہارت ہی ہے۔اگر تم نے حقیقی سپاس گزاری یعنی طہارت و تقوی کی راہیں اختیار کر لیں تو میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تم سرحد پر کھڑے ہو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 49 جدید ایڈیشن) انہی ارشادات کی روشنی میں ہمارے پیارے امام ہمام سید نا حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خلافت احمدیہ کی صد سالہ جوبلی کے عظیم الشان منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے اشاعتِ اسلام اور بنی نوع انسان کی خدمت کے بہت سارے پروگرام جماعت کو دیتے ہوئے فرمایا: جوالہبی جماعتیں ہوتی ہیں اُن کا ایک اور خاصہ بھی ہوتا ہے۔اُن کو اپنی ترقیات اپنی کسی قابلیت یا اپنی کسی محنت یا اپنی کسی خوبی کی وجہ سے نظر نہیں آرہی ہوتیں بلکہ اُن کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضلوں کی وجہ سے ہے نہ کہ ہماری کسی خوبی کی وجہ سے اور پھر جب جماعت بحیثیت جماعت بھی اور ہر فرد جماعت انفرادی طور پر بھی ان فضلوں کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے، اُس کے آگے جھکتا ہے، اُس کے آگے گڑ گڑاتا ہے کہ اے خدا ! تو نے اس قدر فضل ہم پر کیسے جو بارش کے قطروں کی طرح برستے جا رہے ہیں، ہماری کسی غلطی ، ہماری کسی نالائقی، ہماری کسی نا اہلی کی وجہ سے بند نہ ہو جائیں۔اس لیے ہمیں توفیق دے، ہمیں طاقت دے اور ہم پر مزید فضل فرما کہ ہم تیرے ان فضلوں کا شکر ادا کر سکیں کیونکہ شکر ادا کرنے کی طاقت بھی اے خدا! تجھ سے ہی ملتی ہے۔جب یہ سوچ ہوگی اور ہم اِس طرح دعا ئیں بھی کر رہے ہوں گے تو ہم اللہ تعالیٰ کے اس اعلان کے، اللہ تعالیٰ کی اس پیار بھری تسلی کے حق دار بھی بن رہے ہوں گے کہ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (سوره ابراهيم: 8) کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں بڑھاؤں گا۔اللہ کرے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اُس کے اِس وعدے اور اس اعلان کے حق دار ٹھہریں اور کبھی نافرمانوں اور ناشکروں میں شامل ہوکر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب نہ بنیں جیسا کہ فرماتا ہے: وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ“ (سورة ابراهيم: 8) یعنی اگر تم ناشکری کرو گے تو میر اعذاب بھی بہت سخت ہے۔