تأثرات — Page 3
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء اس لیے ہمیشہ شکر گزاروں میں سے بنے رہو۔شکر گزاری کے بھی مختلف مواقع انسان کو ملتے رہتے ہیں اور جو مومن بندے ہیں وہ تو اپنے کام کے سدھرنے کو ، ہر فائدے کو ، ہر ترقی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور پھر اُس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتے ہیں اور ہمیشہ عبد شکور بنے رہتے ہیں۔“ 3 خطبه جمعه فرموده حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی 6 اگست 2004ء) پھر جیسے جیسے خلافت جو بلی کا سال قریب سے قریب تر آتا چلا گیا احباب جماعت کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے افضال و انوار اور رحمتوں پر تشکر کے جذبات میں ایک خاص جوش و جذ بہ اور ولولہ پیدا ہوتا چلا گیا۔ایک عجیب روحانی کیف و سرور کی کیفیت فزوں سے فزوں تر ہوتی چلی گئی۔عشاق خلافت دُعاؤں اور عبادات، اخلاص و وفا ، خدمت اور قربانی کے میدانوں میں تیزی سے آگے بڑھتے چلے گئے کہ اس جماعت اور احباب جماعت نے تو پیچھے ہٹنا سیکھا ہی نہیں کہ ان کی سرشت میں ناکامی کا خمیر ہی نہیں۔خوشیاں منانے کا طریق: تنگی اور آسائش، عسر اور سیر نیز دُکھ اور سکھ انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔انسان کی فطرت ہے کہ جب بھی کوئی سکھ ملے یا خوشی پہنچے یا کبھی رنجور اور غم گین ہو تو وہ اس کا اظہار اپنے اپنے طریق پر کرتا ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک دُنیا دار انسان خوشیاں مناتے ہوئے تہذیب و اخلاق کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی خوشیوں اور کا میابیوں کا سہرا اپنے ہی سر باندھتا اور پھر اتراتا پھرتا ہے۔ایسے موقع پر اُسے خدا یاد نہیں رہتا جو دراصل ان خوشیوں کا عطا کنندہ اور سر چشمہ و منبع ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی تصویر کشی یوں فرماتا ہے: "فَرِحٌ فَخُورٌ۔خوشی اُس کے حواس پر ایسا قبضہ جمالیتی ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک حقیقی تک کو بھول جاتا ہے۔نہ تو اسے خالق کے حقوق کا پاس رہتا ہے اور نہ ہی مخلوق کے حقوق کا خیال ! کئی بار تو وہ خوشی کے اظہار میں حد سے تجاوز کرتے ہوئے پاگل ہو جاتا ہے اور آپے سے باہر ہو کر خوشی منانے کے ایسے طریق اپنا لیتا ہے جن میں اسراف ہی اسراف اور خسارہ ہی خسارہ ہوتا ہے اور حقوق کی پامالی اور غریب کا استحصال ہوتا ہے۔محض نمود و نمائش کی خاطر اپنی دولت ، شان و شوکت ، جاہ و حشمت اور قوت کے اظہار کے لیے آتش بازی یا رقص و سرود کی محفلیں جما تا اور مال ضائع کرتا ہے اور بعض اوقات اپنے کبر کے نشے میں غربا اور مساکین اور حاجت مندوں کا خیال بھی نہیں کرتا اور اُن پر ظلم کرنے لگ جاتا ہے ایسے میں اُس سے بعض ایسی حرکات بھی سرزد ہو جاتی ہیں جو تہذیب و شائستگی اور اخلاقیات سے کلیۂ عاری ہوتی ہیں۔رو پیدا الگ برباد کر رہا ہوتا ہے اور روحانیت کی موت را لگ خرید رہا ہوتا ہے لیکن مؤمن کی یہ شان نہیں بلکہ مؤمن کی شان کیا ہے؟ اس بارہ میں سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: