تأثرات

by Other Authors

Page 32 of 539

تأثرات — Page 32

تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا اختتامی خطاب اور دُعا: 32 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختتامی خطاب میں اہل گھانا کو بہت نصائح کیں، دعائیں دیں اور آخر پر ایک اجتماعی پُر سوز دُعا کروائی۔دُعا کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سٹیج کے بائیں طرف بیٹھے ہوئے چیف صاحبان اور دیگر مہمانوں کو شرف مصافحہ بخشا۔ہر طرف پر شوکت نعرے لگ رہے تھے۔احباب جماعت کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔جلسہ کے آخری لمحات روح پرور بھی تھے اور پُر سوز بھی۔جدائی کی گھڑی آن پہنچی تھی۔باغ احمد میں بسیرا کرنے والے یہ فدائی عشاق اپنے پیارے آقا کے عشق و محبت میں مخمور آنسوؤں میں ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے اپنے آقا کا دیدار کر رہے تھے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ ہلاتے اور دھیرے دھیرے چلتے ہوئے جلسہ گاہ سے روانہ ہورہے تھے لیکن عشاق خلافت کی تشنہ نگاہیں نعروں کے جلو میں مسلسل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے تعاقب میں تھیں۔یہ لوگ دُور تک حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی دید کی خیرات پاتے رہے اور ہاتھ ہلاتے رہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رہائش گاہ میں داخل ہونے سے قبل وہاں پر موجود مکرم عبدالوہاب صاحب آدم امیر جماعت احمد یہ گھانا، مکرم طاہر ہیمنڈ صاحب اور بعض دیگر احباب جماعت کو شرف مصافحہ بخشا اور جلسہ کی کامیابی پر مبارک باددی۔گھانا میں مختلف جماعتی اداروں کا دورہ : حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے گھانا کے مختلف اداروں اور مقامات کا دورہ کیا جن میں احمد یہ قبرستان اکرافو ، احمد یہ سکول ایسار چر جہاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اکتوبر 1979 ء تامارچ 1983ء پر نسپل رہے تھے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک نئے تدریسی بلاک کا افتتاح فرمایا جس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جامعہ احمد یہ گھانا تشریف لے گئے اور وہاں تعمیر ہونے والی نئی بیت الذکر مسجد نور کا افتتاح فرمایا۔جامعہ احمدیہ گھانا کا آغاز 21 اپریل 1966ء کو ہوا تھا۔اس وقت جامعہ احمد یہ گھانا میں پندرہ ممالک کے دوسونو (209) طلبا زیر تعلیم ہیں۔جامعہ احمدیہ کے طلبا سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے۔آپ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ہمیشہ یادرکھیں کہ اگر آپ اپنی تعلیم پر توجہ نہیں دیں گے تو آپ نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔پھر آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہوں گے جنہوں نے دین سیکھنے کے لیے اپنی زندگی وقف کی ہے۔پس آپ اپنے اندر ایسی پاک تبدیلی پیدا کریں کہ خدا تعالیٰ سے آپ کا قریبی تعلق ہو۔اگر تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تو پھر یہ تعلیم حاصل کرنا بے فائدہ ہے۔اگر آپ اپنے آپ کو بدلتے نہیں ، آپ کی