تأثرات — Page 33
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء زندگی مکمل طور پر تبدیل نہیں ہوئی تو پھر آپ ایسے ہیں جیسے چھلکا ہوتا ہے بغیر دانے کے۔پس آپ سچے مبلغ بنیں اور اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کر یں۔جو اس وقت میدان عمل میں ہیں وہ بھی اس کو یاد رکھیں کہ اپنے آپ میں تبدیلی کریں اور پھر اپنے ارد گرد کے حلقہ میں تبدیلی پیدا کریں تب آپ نے صحیح تعلیم حاصل کی ہے۔اگر ایسا نہیں تو لوگ آپ پر انگلی اٹھا ئیں گے کہ تم ہم کو کیا تعلیم دے رہے ہو اور خود اپنے آپ کو نہیں دیکھتے کہ تمہارا اپنا عمل کیا ہے؟“ 33 الفضل انٹرنیشنل 30 مئی تا 5 جون 2008ء صفحہ 11 کالم 1,2) بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احمد یہ سیکنڈری سکول پوٹسن کا دورہ کیا اور سکول کی مسجد کا افتتاح کیا۔سب سے آخر پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے عیما میں احمد یہ رقیم پریس کا دورہ کیا اور پریس کی نئی عمارت کا افتتاح فرمایا۔گھانا میں دوران قیام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جہاں تشریف لے جاتے پولیس آپ کی گاڑی کو م Escort کرتی تھی۔بین جانے کے لیے کھانا سے روانگی اور نائیجریا میں ورود مسعود وصل کا دن اور اتنا مختصر دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے گھانا سے رخصت ہونے کا وقت آگیا تھا۔22 اپریل 2008ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے گھانا سے براستہ نائیجریا بین جانے کے لیے رخصت ہونا تھا۔یہ کیفیات بیان کرتے ہوئے مکرم ایڈیشنل وکیل التبشیر صاحب لندن لکھتے ہیں: پونے بارہ بجے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے۔اپنے پیارے آقا کو الوداع کہنے کے لیے احباب جماعت گھانا مردوخواتین، بچے اور بوڑھے صبح سے ہی مشن ہاؤس میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔حضور انور کو دیکھتے ہی احباب نے نعرے بلند کئے اور بچیوں نے اپنی مخصوص طرز پر گیت پیش کئے۔حضور انور احباب کے پاس تشریف لے گئے اور اپنا ہاتھ بلند کر کے سب کو السلام علیکم کہا اور اجتماعی دعا کروائی۔بڑے رقت آمیز مناظر تھے۔یہی عشاق جو کل تک ہنستے مسکراتے اور خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے آج ان کے چہرے اُداس تھے اور آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو رہی تھیں۔ان کا پیارا محبوب ان سے رخصت ہورہا تھا اور جدائی کے لمحات سر پر آپہنچے تھے۔اس پُر سوز اور دعاؤں سے پُر ماحول میں گیارہ بج کر پچاس منٹ پر حضور انور ایدہ