تأثرات

by Other Authors

Page 31 of 539

تأثرات — Page 31

تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 31 کہ کیا یہی وہ وجود ہے جس کو روزانہ ایم ٹی اے پر دیکھا کرتا تھا ؟ لگتا ہی نہیں کیونکہ ٹی وی تو وہ نور دکھا ہی نہیں سکتا جو میں نے آج اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔گیمبیا سے تشریف لانے والے ایک 74 سالہ بزرگ پیرانہ سالی کے باوجود اتنا لمبا سفر کر کے پہنچے تھے۔ان کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور بار بار کہتے کہ میں نے حضور کو دیکھ لیا ہے! یہ پراگندہ حال لوگ جن کے بال بکھرے ہوئے اور سفر کی دُھول سے اٹے ہوئے ضرور تھے لیکن آسمان کا خدا ان پر اپنے پیار کی نظریں ڈال رہا تھا۔نہ جانے اس وقت وہ اللہ کو کتنے پیارے لگ رہے تھے! ان کی دنیا تو سنور ہی چکی تھی اور یقیناً آخرت بھی سنور چکی تھی۔ان میں سے ہر ایک یہ نعرہ لگانے میں حق بجانب تھا کہ فُرْتُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ! رب کعبہ کی قسم میں اپنی مراد کو پا گیا۔جلسہ سالانہ گھانا کا اختتام: جلسہ سالانہ گھانا کے آخری اجلاس میں نائب صدر گھانا الحاج Aliou Mahama نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ”خاکسار کے لیے یہ امر از حد قابل فخر ہے کہ آج خاکسار کو جماعت احمدیہ کے رُوحانی پیشوا حضرت مرزا مسرور احمد کو گھانا میں خوش آمدید کہنے کی سعادت مل رہی ہے اور پھر صد سالہ خلافت جو بلی کے جلسہ کے موقع پر حاضر ہونا بھی میرے لیے بے حد خوشی کا موجب ہے۔یعنی خلافت احمدیہ کو سو سال پورے ہورہے ہیں۔۔۔میرے معزز مہمانو! گزرے ہوئے سو سالوں کے دوران جماعت نے بے مثال ترقی کی ہے۔اسلام کے اس پیغام کو پھیلاتے ہوئے احمدیت نے دنیا بھر میں Tolerance کا درس دیا ہے اور یہ امر خاکسار کی توجہ کو خاص طور پر کھینچنے کا باعث ہوا۔تعاون کی ایک فضا قائم کر دی۔احمد یہ جماعت نے گھانا کی ترقی میں بھی بہت فعال کردار ادا کیا ہے۔"Love for all Hatred for none" کی تعلیم دنیا کی عین ضرورت کے مطابق ہے۔۔۔ہم خلیفہ مسیح کی خدمت میں ملکی امن اور استحکام کے لیے خصوصاً درخواست دعا کرتے ہیں۔دعا ہے کہ خدا تعالیٰ گھانا پر رُوحانی و مادی فضائل کی موسلا دھار بارش نازل فرماتا چلا جائے۔“ الفضل انٹر نیشنل 23 تا 29 مئی 2008ء صفحہ 9 کالم3,4)