تأثرات

by Other Authors

Page 26 of 539

تأثرات — Page 26

تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 26 که افریقن بلندیوں کو چھوئیں اور اعلیٰ نیکیوں پر انہیں قائم کرتے ہوئے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں لانا ہو گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس امر کی توفیق عطا فرمائے۔آمین الفضل انٹر نیشنل 16 تا 22 مئی 2008 صفحہ 12 کالم 1) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے افتتاحی خطاب کے بعد صدر مملکت گھانا نے تقریر کی۔انہوں نے کہا: میں خلیفہ اسیح کے انتہائی روحانی خطاب پر ممنون و مشکور ہوں۔آپ کا ماٹو LOVE FOR ALL HATRED FOR NONE ہمارے لیے بڑی دل کشی کا موجب ہے اور ہم نے گھانا میں جماعت احمدیہ کو اس پر عمل کرتے ہوئے پایا ہے۔حکومت کی طرف سے ہم آپ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔آخر پر ایک دفعہ پھر صدسالہ خلافت جو بلی کی تقریبات پر ہم آپ کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔اللہ آپ کے ساتھ ہو۔“ الفضل انٹر نیشنل 16 تا 22 مئی 2008 صفحہ 12 کالم 1,2) اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے گھانا کی صد سالہ خلافت احمد یہ جو بلی کا سووینئر صدر مملکت کو پیش کیا اور یوں یہ افتتاحی تقریب اپنے بابرکت انجام کو پہنچی۔رات کو جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کرنے کے بعد اپنی رہائش گاہ واپس جا رہے تھے تو محبان اور جان شارانِ خلافت قطار اندر قطار اپنے پیارے امام کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تابی سے منتظر تھے۔ہاتھ بلند ہو رہے تھے۔رُومال لہرائے جا رہے تھے۔یہ منظر دیدنی تھا۔جو وہاں موجود تھے ان کی آنکھیں شدت جذبات میں آنسوؤں سے ڈبڈبائی ہوئیں تھیں۔وہ سب کچھ ایک خواب کی طرح دیکھا ان دیکھا لگ رہا تھا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سب کو ہاتھ ہلا ہلا کر جواب دے رہے تھے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی مسکراہٹ تشنہ دلوں کی سیرابی اور بے چین روحوں کے اطمینان کا سامان کر رہی تھی۔رہائش گاہ کے قریب کا تو منظر ہی کچھ اور تھا کہ اس محبوب و معشوق سے رہا نہ گیا اور عاشقوں اور جبی فی اللہ پروانوں کی محبت کا جواب دینے کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی کار سے نیچے اترے جہاں کماسی سے آئے ہوئے افریقن بچے اور بچیاں نہایت درجہ مترنم آوازوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا اُردو کلام پڑھ رہے تھے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ پندرہ میں منٹ ان کے پاس کھڑے ہو کر بڑی اپنائیت اور محبت سے مسکراتے ہوئے یہ کلام سنتے رہے۔ایک عجیب محویت اور وارنیکی کا عالم تھا اور ایک عجیب محبت بھری سحر انگیز مسکراہٹ تھی جو نظمیں پڑھنے والوں کو بدلے میں تحفہ مل رہی تھی اور اسی کے تو یہ بھوکے تھے اور اتنی دُور دُور سے یہی برکات سمیٹنے کے لیے یہاں جمع ہوئے تھے۔