تأثرات

by Other Authors

Page 21 of 539

تأثرات — Page 21

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء 21 دورہ گھانا (Ghana): خلافت احمدیہ کی صد سالہ جو بلی کے تاریخ ساز سال میں گھانا وہ پہلا خوش بخت ملک اور گھانا کی جماعت وہ پہلی خوش نصیب جماعت ہے کہ جس کے جلسہ سالانہ میں حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بہ نفس نفیس شرکت فرمائی۔گھانا کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ جب گھانا اقتصادی اور معاشی بدحالی کا شکار تھا تو حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسندِ خلافت پر متمکن ہونے سے قبل اپنی زندگی کے آٹھ سال اس ملک کی بے لوث خدمت کی تھی۔اس اعتبار سے آپ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو فریقہ اور خصوصاً گھانا اور اس کے باسیوں کے ساتھ ایک محبت اور الفت کا تعلق ہے۔یہ خدمات ملکی سطح پر بھی تھیں اسی لیے وہاں کے عوام اور حکومت دونوں اس کے معترف ہیں۔چنانچہ 2004ء اور اب 2008ء میں جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ گھانا میں قدم رنجہ ہوئے تو وہاں کے عوام اور اہل حکومت نے کھلے بازوؤں کے ساتھ آپ کا والہانہ استقبال کیا اور قابل تحسین انداز میں آپ کی پذیرائی کی۔گھانا کی سرزمین آج دنیا بھر کے احمدیوں کا مرجع بنی ہوئی تھی کیونکہ ساری دُنیا کے مختلف ممالک سے گھانا پہنچے ہوئے وفود نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا ائر پورٹ پر استقبال کیا۔ان جماعتی وفود میں گھانا کے پڑوسی ممالک کے علاوہ برکینا فاسو، آئیوری کوسٹ، نائیجر، گیمبیا، گنی بساؤ، کانگو برازاویل ، کنشاسا، سیرالیون، یوگنڈا، تنزانیہ، برونڈی، پاکستان اور زیمبیا سے آئے ہوئے وفود شامل تھے تو اُدھر برطانیہ، جرمنی اور امریکہ سے آئے ہوئے وفود بھی شامل تھے۔کالے گورے، سرخ و سپید بھی اپنے محبوب آقا کا استقبال کرنے اور آپ کے رخ انور کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے قطار اندر قطار منتظر کھڑے تھے۔حکومت گھانا کی طرف سے نائب وزیر داخلہ جناب طاہر ہیمنڈ صاحب ہمبر پارلیمنٹ جناب مالک الحاجی حسن یعقو بوصاحب، ڈپٹی سپیکر آف پارلیمنٹ و ممبر افریقن پارلیمنٹ، ڈسٹرکٹ کمانڈر آف پولیس ائر پورٹ ایریا اور پولیس موبائل فورس کے کمانڈروی۔آئی۔پی۔لاؤنج میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استقبال کے لیے موجود تھے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جہاں بھی جاتے راستے کے دونوں طرف عشاق پروانوں کی صورت ہجوم اندر ہجوم اپنی شمع پر انڈے پڑتے۔ہر طرف ایک ہجوم تھا اور تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔کیا عورتیں اور کیا مرد۔کیا بچے اور کیا بوڑھے سب خوشی و مسرت سے جھومتے ہوئے نعرے بلند کر رہے تھے اور استقبالیہ نغمات الاپ رہے تھے۔یہ منظر اُن مناظر میں سے تھے جو قابل دید تو تھے ہی نا قابل بیان بھی ہیں۔اپنے مخصوص لباس یعنی سفید شرٹ اور سیاہ پتلون میں ملبوس، خذ ام، خدام الاحمدیہ کا مخصوص رومال اپنی گردنوں میں ڈالے اور مخصوص سفید دھاری دار ٹوپیاں