تأثرات — Page 22
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 22 زیب سر کے سینکڑوں کی تعداد میں چاک و چوبند ڈیوٹیوں پر موجود تھے اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کار اور رستے کے ساتھ ساتھ مسلسل دونوں طرف چل رہے تھے۔ایک طرف محبوب اپنے عشاق کو دیکھ دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دُعاؤں میں مصروف تھا تو دوسری جانب عشاق کی مشتاق نگاہیں اس پر نور چہرے پر مرتکز تھیں۔خوش قسمت سائیکل سوار : جلسہ گھانا میں شرکت کی غرض سے سولہ سو کلومیٹر کا سفر سائیکلوں پر طے کر کے بُرکینا فاسو سے آنے والے 305 سائیکل سوار ایک جگہ کھڑے تھے کہ اُن کا پیارا آقا اُن کے پاس پہنچ کر رک گیا ، کار سے اُترا اور قطار میں کھڑے سب سائیکل سواروں کی قسمت کے دروازے کھل گئے کہ ان کی سات دن کے طویل اور انتہائی کٹھن سفر کی تھکاوٹ ان کے محبوب آقا نے اپنا ہاتھ اُن کے ہاتھوں میں دے کر ایک پل میں اُتار دی۔ان میں ایک نئی جان بھر گئی۔وہ ایک دوسرے سے گلے مل مل کر ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے اور اپنی خوش قسمتی پر نازاں تھے اور ان برکات کے مزے لوٹتے۔مصافحہ کرنے کے بعد وہ بار بار اپنے ہاتھوں کو چومتے اور اپنے جسموں پر پھیر تے کہ اُس ہاتھ کی برکت اپنے تن بدن میں بھر سکیں۔اُن کے لیے یہ دن اور یہ لمحے ایسے یادگار تھے کہ وہ ان ایام کی تمام برکات کو اپنے تن بدن میں سمیٹ لینا چاہتے تھے۔جہاں وہ اس بات پر خوش تھے کہ اُنہوں نے اس قدر لمبا سفر سائیکلوں پر طے کر کے اپنی وفا کا ثبوت مہیا کیا ہے وہاں وہ اس بات پر بھی نازاں تھے کہ اُن کے محبوب امام نے اُن کو قدر اور محبت کی نگاہ سے دیکھا ہے گویا وہ فخر سے یہ اعلان کر رہے تھے کہ: ہاتھ وہ عام نہیں گز ہے ہر ہم نے نے جس ہاتھ بیعت کی ہے ہم نے بھی ٹوٹ کے چاہا اُس کو اُس نے بھی کھل کے محبت کی ہے صدر مملکت گھانا کے ساتھ ملاقات : ( محمد مقصود احمد منیب ) گھانا کے صدر مملکت جناب ہے۔اے۔کوفور۔(J۔A۔Kufor) نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو صدارتی محل میں خوش آمدید کہا اور پھر جلسہ سالانہ کے افتتاحی اجلاس میں بھی شرکت کی۔صدر مملکت گھانا کو افتتاحی اجلاس میں خطاب کا بھی موقع دیا گیا جس میں انہوں نے گھانا کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ