تأثرات — Page 307
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء لندن واپسی کا فیصلہ: 277 بعض ناگزیر حالات کی بنا پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت سے مشورے کیے اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دورہ بھارت کو مختصر فرما دیا اور دُعا اور مشوروں کے بعد یہی مناسب خیال فرمایا کہ اس دورہ کو مختصر کر کے واپسی کا سفر اختیار کیا جائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 5 دسمبر 2008 ء میں تمام حالات و واقعات کا ذکر کرتے ہوئے وضاحت سے بتایا کہ یہ دورہ مختصر کیوں کیا جارہا ہے؟ چنانچہ 5 دسمبر 2008ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد بیت الہادی دہلی میں خطبہ جمعہ میں فرمایا: مختلف لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جو پہلے ہی بعض فکرمندی والی رؤیا دکھائی تھیں جو کچھ نے مجھے پہلے بھی لکھی تھیں اور اب زیادہ آرہی ہیں اور یہ سب خوا میں جودُ نیا میں اُن لوگوں کو دکھائی کہیں جو مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سننے اور پڑھنے کے بعد اور اسی طرح دعا کے بعد اور مختلف مشوروں کے بعد میں نے باہر سے آنے والے لوگوں کو روکا ہے۔یہی فیصلہ کیا ہے کہ نہ آئیں۔ہمارے سب کام جذباتیت سے بالا ہو کر ہونے چاہئیں۔دُنیا کی باتوں یا استہزا کا خیال دل سے نکالتے ہوئے ہونے چاہئیں۔ہر احمدی کی جان کی قیمت ہے، بلاوجہ اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔مجھے پتہ ہے بہت سوں کو اس سے شدید جذباتی تکلیف پہنچے گی لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فضل فرماتا ہے۔اگر ہم کسی غلط فیصلے کا اپنی بشری کمزوری کی وجہ سے سوچ بھی رہے ہوں تو حالات و واقعات کو اللہ تعالیٰ اس نہج پر لے آتا ہے جس سے ہمیں صحیح سوچوں اور صحیح فیصلوں کی طرف راہنمائی ملتی ہے۔الفضل انٹر نیشنل 30 جنوری تا 5 فروری 2009ء صفحہ نمبر 2) جب حضور انور نے سب احباب جماعت کو قادیان کے جلسہ سالانہ میں شرکت سے منع فرما دیا اور اس کی وجہ بھی بتادی تو عالم گیر جماعت احمدیہ کے تمام احباب کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اطاعت امام کے جذبات کو جناب عبد الکریم قدسی نے یوں بیان کیا: مرشد نے کہہ دیا ہے قانون اک شخص کہ جانا نہیں وہاں رستے ہوئے کے اگرچہ ہیں بھی نہ توڑے گا ہیں پاسپورٹ پھر کہا کہ: حکم کھلے امام وقت ویزے لگے ہوئے