تأثرات — Page 201
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لیے کی ہیں اور جو بھی ان کے حصول کی نیک نیتی سے خواہش کرے گا اور اس کے لیے کوشش کرے گا تو ہمیشہ ہر ملک کے جلسے میں شامل ہونے والوں کو یہ دعا ئیں فیض پہنچاتی رہتی ہیں، یہاں بھی فیض پہنچا ئیں گی۔جماعت کی ترقی کی ضمانت جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی جماعت کے لیے کی گئی دعاؤں کی قبولیت کی ضمانت بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دی۔اور اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی ان دعاؤں کے پیچھے وہ دعائیں بھی کام کر رہی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے ان افراد کے لیے کی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق کی جماعت میں شامل ہوئے۔پس ان دعاؤں سے حصہ دار بننا اب ہمارے اعمال پر منحصر ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔“ 177 (خطبہ جمعہ حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی 25 جولائی 2008ء - الفضل انٹر نیشنل 15 تا 21 اگست 2008ء صفحہ نمبر 8) 25 جولائی 2008 ء کو حسب پروگرام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے لوائے احمدیت لہرا کر جلسہ کا آغاز فرمایا جس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی اور جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جیسے ہی جلسہ گاہ میں داخل ہوئے تو جلسہ گاہ کی فضا نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کرسی صدارت پر بیٹھے تو مکرم امیر صاحب یوکے نے چند مہمانوں کا تعارف پیش فرمایا اور ان کو خطاب کی دعوت دی۔معززمہمانوں نے مجموعی لحاظ سے جماعت احمدیہ کی خدمات اور ترقیات کی تعریف کی اور جماعت پر ہونے والے ظلم و تشدد کے واقعات کی مذمت کی نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالی اور احباب جماعت کی خدمت میں صدسالہ خلافت جو بلی کے تاریخی موقع پر مبارک باد پیش کی : :Mr۔Edward Davey MP (1 ممبر آف پارلیمنٹ حکومت برطانیہ جناب ایڈورڈ ڈیوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا: مجھے آپ کے اس جلسہ میں شامل ہو کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔۔۔بالخصوص اس لیے کہ یہ جلسہ صد سالہ جو بلی کا غیر معمولی جلسہ ہے۔میں پہلے بھی ان جلسوں میں شرکت کر چکا ہوں لیکن ہر دفعہ جماعت احمدیہ کو پہلے سے بڑھ کر ترقی یافتہ حالت میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔یہ سب کچھ آپ کے خلفاء کی بہترین راہنمائی اور خلوص کا نتیجہ ہے۔“ الفضل انٹرنیشنل 15 تا 21 اگست 2008ء صفحہ نمبر 2)