تأثرات — Page 200
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء جلسہ سالانہ برطانیہ کا پہلا دن اور مہمانوں کے تاثرات : 176 25 جولائی 2008 ء چونکہ جمعۃ المبارک کا دن تھا اور اسی دن جلسہ سالانہ برطانیہ کا آغاز ہونا تھا اس لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حدیقۃ المہدی آلٹن برطانیہ میں ہی جمعۃ المبارک کا خطبہ ارشاد فرمایا اور نماز جمعہ ادا کی۔افتتاحی خطاب سے پہلے خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ برطانیہ میں شمولیت کرنے والوں کو خوش آمدید کہا اور فرمایا: خالصتاً یہاں جلسہ میں شامل ہونے کا مقصد لگی ہونا چاہیے اس لیے اس مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھیں اور اس میں سب سے اہم چیز نمازوں کی ادائیگی ہے۔صرف جلسہ میں بیٹھ کر دلچسپی کی چند تقریریں سن کر آپ کے اس سفر کا مقصد پورا نہیں ہو جا تا بلکہ ان دنوں میں ہر ایک ایسی پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ ان دنوں میں کی گئی عبادتیں اور نمازیں جلسہ میں شامل ہونے والوں کی زندگی کا ایک دائی حصہ بن جائیں۔ایسی نمازیں ہوں جن میں صرف خشوع و خضوع نہ ہو، تمام نمازیں وقت پر پڑھنے کی کوشش بھی کریں بلکہ یہ لازمی کریں کہ باجماعت نمازیں ادا کرنی ہیں۔۔۔۔پس جب اللہ تعالیٰ نے خلافت کی نعمت کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ وہ مؤمنین کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا تو اس آیت میں یہ بتایا کہ وہ لوگ میری عبادت کریں گے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانے کی وجہ سے ان پر یہ انعام ہوگا کہ ان کو خلافت کی وجہ سے تمکنت عطا ہوگی اور پھر یہ بات انہیں مزید عبادت کی طرف توجہ دلانے والی ہوگی۔۔۔جلسہ پر آنے والے ہر احمدی کو سب سے پہلے یہ بنیادی مقصد اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جلسہ کے دنوں میں سلام کو رواج دیں۔خدا تعالیٰ نے جو ہمیں احکام دیئے ہیں ان میں یہ بھی بڑا بنیادی حکم ہے اور آپس کے پیارو محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔“ ( خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ 25 جولائی 2008ء - الفضل انٹر نیشنل 15 تا 21 اگست 2008ء صفحہ نمبر 6) خطبہ کے آخر میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: 66 پس ان دنوں میں نمازوں اور دعاؤں پر زور دیں، نوافل کی ادائیگی کی طرف توجہ دیں۔جلسہ کے ماحول میں بھی اور اس سے باہر اپنے ماحول میں بھی سلام کو رواج دیں۔پیار محبت اور بھائی چارہ کی فضا پیدا کریں تا کہ ان دعاؤں سے بھی حصہ پانے والے ہوں جو