تأثرات

by Other Authors

Page 24 of 539

تأثرات — Page 24

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء 24 ہوئی حمد وثنا کے نور کی کرنیں، دلوں سے بہتے ہوئے مسرتوں کے چشمے اور درود شریف کے ئے ، اور خلافت سے عقیدت ومحبت کے پاکیزہ نعمات دلوں کو گرمارہے تھے۔دراصل جیسے ہی حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی منصوبہ کا اعلان فرمایا تھا تو ساتھ ہی عالم احمدیت میں پاک تبدیلیاں اور خدمت اسلام اور اشاعت احمدیت کے لیے ایک زبر دست ہیجان دکھائی دینے لگا تھا۔خفتہ رُوحیں بیدار ہو گئیں اور پہلے سے بیدار روھیں زیادہ مستعدی کے ساتھ نیکیوں ، اخلاص اور تقوی ، دُعاؤں اور عبادات کے میدان میں قدم مارنے لگیں۔خلافت کی اہمیت ،عظمت اور برکات کے تذکرے عام ہونے لگے۔استحکام و بقاء خلافت کے حوالہ سے ہر جگہ سیمینار اور جلسے ہونا شروع ہو گئے اور گھانا کا یہ جلسہ بھی اُسی کی ایک جیتی جاگتی تصویر دکھائی دیا اور ان کی خوشیاں اس وقت بام عروج پر پہنچ گئیں جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطاب میں اُن کے اخلاص و وفا اور قربانی کا تحسین آمیز رنگ میں ذکر اور خلافت کے ساتھ وابستگی اور محبت کو مثالی قرار دیا۔آپ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ”اے گھانا کے احمد یو! میں آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے خلافت کے ساتھ اپنے پیمان کو پورا کر دیا۔“ (الفضل انٹر نیشنل 16 تا22 مئی 2008 صفحہ 16 کالم 2) گھانا کے احمدی حق بجانب ہیں کہ وہ اس نوید پر جس قدر بھی ناز کریں کم ہے۔زنده باد اے عاشقان باغ احمد زنده باد 17 اپریل 2008ء کو جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اور صدر مملکت گھانا شیخ کے خصوصی ، خوب صورت اور رنگین شامیانے کے نیچے پہنچے تو جلسہ گاہ میں نعرہ ہائے تکبیر، اسلام زندہ باد، احمدیت زندہ باد اور خلافت احمدیہ زندہ باد کی وہ فلک بوس صدائیں تھیں کہ تھمنے میں نہ آ رہی تھیں۔اس وقت یقیناً سارے احمدیوں کی زبانیں ذکر الہی سے تر تھیں اور روحیں آستانہ الوہیت پر پانی کی طرح یہ رہی تھیں۔آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ دن دکھایا تھا کہ جس کو دیکھنے کے لیے کئی ایک مشتاق روحیں حسرت سے اس دار فانی سے کوچ کر چکی ہیں۔تلاوت اور عربی قصیدے کے بعد الحاج الحسن صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ، صدرمملکت گھانا اور امیر جماعت احمد یہ غانا مکرم عبدالوہاب آدم صاحب کا قدرے تفصیلی تعارف کرایا۔بعد ازاں امیر صاحب گھانا نے تمام شرکا اور عمائدین کا فردا فردا شکر یہ ادا کیا اور دعا کی کہ صد سالہ جو بلی کی ان تقریبات سے باہمی تعاون و امن کی زیادہ بہتر فضا قائم ہو اور یہ فضا افریقہ اور پھر ساری دنیا پر محیط ہو جائے۔اس کے بعد نو جوانوں ن أَهْلًا وَّ سَهْلًا وَّ مَرْحَبًا کے عنوان سے ایک خوب صورت اور دل میں اتر جانے والا گیت پیش کیا جس کے بعد مذہبی راہنماؤں اور عمائدین کو صد سالہ جو بلی کے موقع پر مبارک باد کے پیغام پڑھ کر سنانے کا موقع دیا