تصدیق براھین احمدیہ — Page 155
تصدیق براہین احمد به ۱۵۵ مصدق۔آپ نے تکذیب کے صفحہ (۸۵) میں لکھا ہے۔آریہ حق کے چھپانے سے البتہ ڈرتے ہیں مگر میں نے جہاں تک غور کیا آپ کا طریقہ یہ نہ پایا۔سنئیے صاحب! یوم کا لفظ عربی زبان میں وسیع معنے رکھتا ہے منجملہ ان معنے کے یوم کے معنی وقت ہے سنو ! محاوره عربــيــوم ولد للملك ولد يكون سرور عظيم و يوم مات فلان بكت عليه الفرق المختلفة۔حالانکہ لڑکے کا پیدا ہونا اور آدمی کا مرنا کبھی دن کو ہوتا ہے اور کبھی رات کو۔پس مالک یوم الدین کے معنے ہوئے۔مالک ہے وقت جزا کا ہر روز جس وقت کسی کو اپنے اعمال نیک کے بدلے انعام اور بد اعمال کے بدلے سزا ملتی ہے۔اس وقت کا مالک باری تعالیٰ ہے۔بلکہ یوم اتنے وقت کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی واقعہ گزرا ہو۔دیکھو یوم بعاث۔وَذَكِّرْهُمْ بِأَيْهِ اللهِ (ابراهيم:۲) ہمارے ملک میں دن ٹھیک ترجمہ یوم کا ہے لوگ کہتے ہیں آج فلاں شخص کے دن اچھے آئے ہیں اور فلاں شخص کے برے آئے ہیں۔پس یوم کا ترجمہ دن بھی کریں تو کوئی عیب نہیں ، غور کرو، تمام ان مصائب کی نسبت ( جو یہاں دنیا میں برداشت کی جاتی ہیں ) قرآن کیا کہتا ہے۔وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمُ (الشورى :(۳) فَأَصَابَهُمْ سَيَّاتُ مَا عَمِلُوا النحل: ۳۵)۔یعنی جو کچھ تم کو مصیبت پہنچتی ہے سب تمہارے کسب اور اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کل مقدمات دورہ سپرد نہیں۔اور اگر بعض لوگوں کے معاملات سشن سپرد ہیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔ضمانت کی ضرورت ان ناقص حکام کو ہوتی ہے جن کو ڈر ہوتا ہے کہ ان کا مجرم ان حکام کے تصرف سے کہیں بھاگ جاوے گا باری تعالیٰ کے ملک سے بھاگ کر جانے کی کوئی جگہ نہیں مجرموں میں سے بعض اسی وقت سزا یاب ہو جاتے ہیں اور بعض جوڈیشل حوالات میں رہتے ہیں یا ان پر عفو ہو جاتا ہے۔ضمانت کی حاجت نہیں سَرِيعُ الْحِسَابِ اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ میں تعارض نہیں۔(اول ) اس لئے کہ سَرِيعُ الْحِساب کے معنے ہیں کہ جب حساب شروع کر دے تو جھٹ پٹ