تصدیق براھین احمدیہ — Page 234
تصدیق براہین احمدیہ ۲۳۴ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ اس شخص سے بھلی بات کس کی جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا (ختم السجدة: (۳۴) اور اچھے کام کئے۔۔شانز دہم۔بتائی کے حق میں فرمایا إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ جو لوگ ظلم کی راہ سے تیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ یا درکھیں الْيَتَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ وہ انگارے کھاتے ہیں آگ ہی ان کے پیٹ میں جاتی ہے۔فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سعِيرًا (النساء:1) بے ریب وہ جلتے دوزخ میں بیٹھیں گے۔لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَأَتُوا الْيَتَنَی أَمْوَالَهُمْ و تیموں کے اموال قیموں کو دے دو۔اور ان کی اچھی چیزیں اپنی بری وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى اشیا سے نہ بدلو۔اور اپنے اموال سے ملا کر بھی ان کے مال نہ کھاؤ پس أَمْوَالِكُمْ إِنه گان خوب گھیرا بالکل انہیں کامل کھا جانا کیا برا ہوگا۔بے شک یہ بات بڑی بدی ہے (النساء: ۳) ہشید ہم۔کورٹ آف وارڈس اور حجر کا راحت بخش قانون سمجھایا اگر اس قانون پر عمل ہوتا تو دنیا سے ہزاروں مفاسد اٹھ جاتے کیونکہ اس قانون کے مطابق حکم ہے جب کوئی یتیم مالداررہ جاوے یا کوئی شخص گو کم عمر نہیں مگر اپنے اموال کو نادانی کم عقلی سے ضائع کرتا ہے تو دونوں صورتوں میں صاحب مال کو اس مال کے تصرف سے روک دو۔اور اس مال کی حفاظت رکھو اور صاحب مال کو بقدر ضرورت اس وقت دیتے رہو کہ عاقبت اندیشی سے خرچ کر سکے۔