تصدیق براھین احمدیہ — Page 235
تصدیق براہین احمدیہ ۲۳۵ وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاء أَمْوَالَكُم نادان بچوں کو ان کے مال نہ دے دینا۔مال ہے تو معیشت اور گزارہ وارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ کا ذریعہ ہے ہاں ان بچوں کو کھانے اور پہنے کے لئے ان اموال سے الَّتِي جَعَلَ اللهُ لَكُمْ قِيمًا وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا کچھ دیتے رہو۔اور انہیں میٹھی پیاری زبان سے تسلی دو۔بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِن انتم اور امتحان کرتے رہو۔جب یتیم بڑے اچھے جوان نکاح کرنے کے وَابْتَلُوا الْيَتَى حَتَّى إِذَا مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا الهم قابل ہو جاویں اور تمہیں ثابت ہو جاوے کہ اپنا آپ اب سنبھال أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وبِدَارًا أَن يُكْبَرُوا لیں گے تو ان کے مال انہیں دے دو۔اور ایسا نہ کہو کہ نا جائز طور پران وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ کے بڑے ہونے سے پہلے ہی تم خرد برد کر لو۔بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُه الهه دولتمند یتیم کے اموال کا نگران تو اس مال سے کچھ بھی نہ لے۔مگر أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ غریب نگران مناسب حق الخدمۃ کھالے۔وَكَفَى بِاللهِ حَسِيبٌ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَن و اور جب میموں کا مال یتیموں کو دو تب ہی گواہ رکھ لو کہ یہ چیز میرے الْأَقْرَبُونَ وَ پاس تھی صحیح و سالم پوری تم نے دے دی۔اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کافی لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَنِ وَالْأَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَل حساب کرنے والا ہے ماں باپ اور رشتہ داروں کے مال کے وارث مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مفروض مر بھی ہیں اور عورتیں بھی کوئی کم کوئی زیادہ حقدار ہے۔وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقَرْبى و التثنی ہر ایک وارث کا حق الہی قانون میں مقرر ہے۔اور جب ورثہ کی تقسیم وَالْمَسْكِينَ فَارْزُقُوهُم مِنه پر رشتہ دار یتیم اور مسکین جمع ہوں تو انہیں اس میں سے کچھ دو اور جو وَقُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا وَلْيَخْشَ بات کہو ایسی ہو کہ شریعت اسے پسند کرے۔الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ خدا کا خوف کرو تمہارے ننھے ننھے بچے اگر رہ جاویں اور تم مرجاؤ تو ذُرِّيَّةً ضِعَفٌ خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلاً تم کو مرتے وقت کتنا ہی ان کا فکر ہوتا ہے۔ایسے ہی عام یتیموں کا فکر سَدِيدًا إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ رکھو اور جو بات کہو بڑی پختہ ہو۔أَمْوَالَ الْيَتَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا جو لوگ یتیموں کے مال کھا جاتے ہیں۔بے ریب اپنے پیٹ میں وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا آگ ڈالتے ہیں اور جلتے دوزخ میں بیٹھیں گے۔(النساء: ۶ تا ۱۱)