تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 182 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 182

تصدیق براہین احمدیہ ۱۸۲ وہ تمہارا یا کسی کا ماتحت نہیں۔اور نہ کسی سے مشورہ کا محتاج ہے وَهُوَ الْقَاهِرَ فَوْقَ عِبَادِهِ (الانعام: ۱۹) پھر میں کہتا ہوں کہ لفظ گن کا تو یہ مطلب ہے۔اور یہ معنی کہ ہو جا، یا ہو پڑے تو جیسے اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کا ہونا چاہا اسی طرح وہ چیز ہو گئی جس چیز کا وجود تدریجا اور آہستگی سے چاہا وہ چیز بتدریج و آہستگی پیدا ہوئی اور جس چیز کا وجود فعہ چاہا وہ چیز دفعہ پیدا ہوگئی۔مثلاً چنے کا درخت چالیس روز میں پک کر تیار ہوتا ہے چنے کے لئے گن کہنے والے کا یہ منشا ہوا۔جوان آدمی چھپیں برس میں جوان بنتا ہے، بڑ کا درخت صدی میں کمال کو پہنچتا ہے ان کے لئے کن کہنے والے کا یہی منشا ہوا کہ اتنی مدت میں بنے۔غرض ہر چیز کے تیار ہونے میں اللہ تعالیٰ نے جدا جدا اوقات مقرر کر رکھے ہیں کسی کی کیا سکت کہ اس پر اعتراض کرے کہ الہی تو نے فلاں چیز کو تدریجا بننے والی اور فلاں کو دفعہ بننے والی کیوں نہ کیا لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْتَلُونَ (الانبياء: ۲۴) صادق آیت ہے اور رفتار نظام عالم اس کی مصدق ہے۔چھٹے اعتراض کے جواب میں سر دست اتنا کہنا کافی ہوگا کہ روح کو کتب مقدسہ اور پاک کتاب قرآن کریم نے بہت معنوں پر استعمال کیا ہے۔اوّل، روح کلام الہی کا نام ہے۔اور اس لئے کہ کلام الہی سے بڑھ کر کوئی چیز زندگی کا موجب نہیں۔اگر اس متعارف روح سے چند روزہ زندگی حاصل ہوسکتی ہے تو اس روح ( کلام الہی سے جاودانی حیات ، ابدی نجات، نیولائف ، دھرم جیون کو انسان لے سکتے ہیں! اگر اس روح سے چند روزہ جسمانی خوشیوں کو لے سکتے ہیں تو اس روح سے ابدی سرور مها انند ابدی آرام پا سکتے ہیں! ان معنے کے رو سے روح مخلوق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اس لئے کہ یہ روح الہی کلام ہے اور اللہ تعالی اس کا متکلم، جب ان معنے کے لحاظ سے روح خدا کی صفت ٹھہری اور مخلوق نہ ہوئی اس کے لئے کسی مصالح کی ضرورت بھی بجز ذات الہی کی نہ رہی۔قرآن کریم سے ان معنی کی شہادت سنو ! وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحَامِنْ أَمْرِنَا (الشوری: ۵۳) يُنزِلُ المُلبِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِةٍ (النحل: ٣)