تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 181 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 181

تصدیق براہین احمدیہ ۱۸۱ چالیس روز میں بنے کی شہادت دیتی ہے۔اور خبر محمدی اور حدیث احمدی (حَمَّرُتُ طِينَ آدَمَ ) کی تصدیق کرتی ہیں۔آریو! آپ کو طوعا نہ سہی کر ہا محمدی حدیث مانی پڑی فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔إِنَّ أَحَدَكُمُ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ اَرْبَعِينَ يَوْمًا - بخاری کتاب القدر چوتھے اعتراض کا جواب تقریر بالا سے بالکل ظاہر ہے۔اور مکذب براہین کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ بڑا محنتی آدمی ہے غلط ہے۔آریو! اسلامی لوگ جسے اللہ تعالیٰ کہتے ہیں وہ تو خالق آدم ہے۔وہ آدمی نہیں۔یا درکھو جس طرح عام ہند و اعتقاد کرتے ہیں کہ سری کرشن جی اور رامچندرجی خدا اور پھر آدمی تھے! اور جس طرح عیسائی شاید ان سے ہی سنی سنائی حضرت مسیح علیہ السلام کو آدمی اور خدا کہتے ہیں اس طرح اسلامیوں کا اعتقاد نہیں کہ اللہ تعالیٰ آدمی ہے۔اسلامی تو اللہ تعالیٰ کو ہر ایک عیب اور نقص سے بالکل پاک جانتے ہیں۔اسی چوتھے اعتراض میں مکذب نے باری تعالیٰ کو جس کی صفت اسلامیوں میں هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (هود: (۱۷) مذکور ہے کمزور کہا ہے۔یہ سوء ادب ہے۔سنوا سلام کی پاک کتاب میں اللہ تعالیٰ کی صفت میں آیا ہے وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (المائدة: ۱۲۱)۔البتہ ایک معنی میں اسے بے کس کہو تو شاید ممکن ہو کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی تعریف میں آیا ہے وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (الاخلاص : ۵) اور حدیث میں وارد ہے كَانَ اللهُ وَلَمُ يَكُنُ مَعَهُ شَيْئًا - كنز العمال حدیث نمبر ۰ ۲۹۸۵ جلده اصفحه ۳۷ منشورات مكتبة التراث الاسلامي - مطبعة الاصيل حلب الطبعة الاولى ١٩٧١ء) پانچویں اعتراض میں مکذب براہین نے پوچھا ہے مٹی کہاں سے آئی ؟ شکن سے کیوں تیار نہ کر لیا ؟ سنو! صاحب مٹی کو اس نے خود پیدا کیا۔تم کو اطلاع نہیں ہوئی مگر اسی آیت شریف میں خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ کا جملہ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ (الاعراف:۵۵) کے پہلے موجود ہے جس کے معنی ہیں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا مٹی زمین ہی کا حصہ ہے۔جس نے زمین کو بنایا اس نے مٹی کو بھی بنایا صرف كُنُ سے جیسا آپ چاہتے ہیں اس لئے پیدا نہ کیا کہ اسے اختیار ہے جیسے چاہے پیدا کرے۔