تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 140 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 140

تصدیق براہین احمدیہ ۱۴۰ لطیفہ رابعہ۔مکذب نے لفظ اوم کی دوسری فضیلت میں کہا ہے اللہ تعالیٰ ایک ویشی یعنی عرش یا پانی پر بیٹھا ہوا نہیں۔میں پوچھتا ہوں خود مکذب نے تکذیب کے صفحہ اہم میں باری تعالیٰ کی مدح میں لکھا ہے۔وہ تینوں زمانوں کے اوپر براجمان ہے۔اس قول پر وید سے استدلال کیا ہے۔اور بڑھ کر یہ ہے کہ صفحہ نمبر ۷۴ میں ایک وید منتر لکھا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔’ دیوتہ امرت مان شوناس ترتیئے دہام ندہی تم۔اور ان الفاظ کے اصل معنی یہ ہیں دیو تہ لوگ آب حیات کا پینا ترک کر کے تیسرے مقام میں پر کاش والے کی عبادت کرتے ہیں۔سوچو ایک مقام تو زمین ہے اور دوسرا آسمان تیسرا کیا ہوا اسے وہی کیوں نہیں تسلیم کیا جاتا ہے جسے اہل اسلام عرش کہتے ہیں۔لطیفہ خامسہ۔مکذب نے اوم کے لفظ سے یہ بھی نکالا ہے کہ باری تعالیٰ کی جناب میں سپارش نہیں، رشوت جرم ہے جبرائیل، میکائیل کا وحی پہنچانے رزق رسانی کا محتاج بنانا جہالت ہے“۔میں کہتا ہوں باری تعالیٰ کی پاک ذات کو مسلمان بھی رشوت خوار اور وحی میں جبرائیل وغیرہ کا محتاج ہر گز نہیں جانتے۔ان کلمات سے کس قوم پر طعنہ کی راہ تکتی ہے؟ کیا قرآن کریم میں یہ آیت شریفہ نہیں آئی۔وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُولُونَ هَؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللهِ قُلْ اَتُنَيّونَ اللهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَوتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ سُبْحَنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (يونس: ١٩) وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْنَ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ (البقرة : ۴۹) وَاللهُ الْغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ (محمد: (۳۹) مگراب یہ تو فرمائیے پر ارتھنا اور دعاؤں اور خاص کر مضطروں اور پاک لوگوں کی دعاؤں میں بھی کوئی اثر ہے یا نہیں؟ اور خیرات ، صدقات اور خوشبو والی اشیاء کا آگ میں ڈالنا کچھ مفید لے اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جی کسی جی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس کی سفارش منظور کی جائے گی اور نہ اس سے کوئی رشوت لی جائے گی اور نہ وہ مدد دیئے جائیں گے۔