تصدیق براھین احمدیہ — Page 141
تصدیق براہین احمدیہ ۱۴۱ ہے یا نہیں ؟ اگر جبرائیل کا وحی میں درمیانی یقین کرنا اور میکائیل کا توسط ماننا کبیرہ گناہ ہے اور الہی بارگاہ میں کوئی واسطہ نہیں تو کیا یہ بات بالکل غلط ہے جو دیا نندی آریہ کہتے ہیں۔اگنی ، وایو، سورج، انکرہ کی وساطت اور درمیانی ہونے سے وید جیسا الہی کلام لوگوں کو پہنچا اور کیا ہمارا یہ مشاہدہ غلط ہے؟ اور سوفسطائیہ کا قول صحیح ہے۔مشاہدوں کا اعتبار نہیں ؟ جو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے کھیتوں اور باغوں کے ہرا بھرا آباد کرنے میں بعض ہوائیں اور مینہ برسانے والے بادل اور روشنی اور اندھیرا مظاہر قدرت کی وساطت ہوتی ہے اور تمام حوادث اور واقعات علوی وسفلی وسائط واسباب سے مربوط ہیں۔تیس پر بھی حقیقتا باری تعالیٰ کی ذات پاک ان تمام علل اور درمیانی اشیاء سے مستغنی ہے اور یہی امر بالکل اسلام کے مطابق ہے۔إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنُهُ أَنْ نَّقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (النحل: ۳۱) اس ویدک منتر کی جو ایک قسم کی دعا ہے مکذب نے چوتھی فضیلت دیکھی ہے جو جس کو پیار کرتا ہے دوسرے کے دل میں اس کی محبت اتنی ہی اثر کر رہی ہے۔ایشر کو پرانو سے پیارا جاننا حصول قرب کا اول درجہ ہے“۔میں کہتا ہوں قرآن کریم الہی محبت کے مسئلہ کو جس آب و تاب و عمدگی سے بیان کرتا ہے اسے ذرہ تامل سے سنو۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا تُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ امَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلهِ (البقرة: ١٦٦) بعض آدمی بعض اشیاء کو مختلف اغراض کے باعث پرانوں سے پیارا سمجھتے ہیں تم نے سنا ہوگا کہ ہزاروں اپنے پرانوں کو خدا کے سوا اور اشیاء کی محبت پر تیاگ دیتے ہیں۔پس سچی تعلیم اور کامل تعلیم میں بجائے اس کے کہ باری تعالیٰ کو پرانوں سے پیارا کہا جاوے اس کو ہر ایک چیز سے بعض آدمی اللہ کو چھوڑ کر شریکوں کو اختیار کر لیتے ہیں ان سے اللہ کا سا پیار کرتے ہیں۔پر ایمان والے سب سے زیادہ محبت اللہ ہی سے کرتے ہیں۔