تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 176 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 176

تصدیق براہین احمدیہ تیسری توجیہ اس آیت شریف کی یہ ہے کہ ہر ایک چیز کی پہچان مختلف اسباب سے ہوا کرتی ہے۔مثلاً کوئی شخص ایک آدمی کو اس کا منہ دیکھ کر پہچان سکتا ہے اور سابقہ جان پہچان والا ادنی نشان جیسے قدم اور ساق کو دیکھ کر پتہ لگا سکتا ہے۔اسی طرح ایک سمجھ دار صحیح الفطرت صاحب دانش ادنی ادنیٰ امور سے باری تعالیٰ کے وجود اور اس کی ہستی کا پتہ حاصل کر سکتا ہے شعر برگ درختان سبز در ہر نظرے ہوشیار ورقے دفتری معرفت کردگار اور کم فہم مریض الفطرت کو عمدہ عمدہ دلائل سے بھی معرفت الہی حاصل نہیں ہو سکتی اسی طرح ہنگامہ محشر کے وقت جو اسی موجود دنیا کا نتیجہ ہے جب الہی صفات کا ظہور ہوگا تو ناسمجھ اپنی کمی معرفت اور نقص عرفان کے باعث بخلاف سمجھ داروں کے سجدہ سے محروم رہ جاویں گے اور اسلام والے اپنے عرفان اور ایمانی نور کے باعث ادنی ظہور صفات پر جسے کشف ساق کہتے ہیں جو کشف وجہ سے کم ہے سجدہ میں گریں گے۔اور منافقوں نافہموں کی پیٹھ اس وقت طبق واحد ہو جائے گی۔چوتھی تو جیہ جو بالکل میرے مسلک پر ہے یہ ہے۔ساق اور اس کا کشف باری تعالیٰ کی صفت ہے اور صفات کا معاملہ ایسا ہی ہے کہ ان کی حقیقت ہمیشہ بلحاظ اپنے موصوف کے بدل جایا کرتی ہے مثلاً بیٹھنا ہماری صفت ہے جس سے ہم ہر روز متصف ہوتے ہیں۔مگر ایک بڑے ساہوکار یا کسی امیر کا عروج کے بعد بیٹھ جانا ہمارے ہر روزہ بیٹھ جانے سے نرالا ہوگا۔برسات کے دنوں میں مینہ کے زور سے دیوار کا بیٹھ جانا پہلے بیٹھنوں سے بالکل الگ ہوگا اور ایک پادشاہ کا تخت پر بیٹھ جانا کوئی اور ہی حقیقت رکھے گا۔ان مثالوں میں دیکھ لو۔بیٹھنا ایک صفت ہے مگر بلحاظ تبدیل موصوفین کے اس صفت کا ایک قسم دوسرے قسم سے بالکل علیحدہ ہے۔اب ان سب سے ایک لطیف بیٹھنا سنو! جس کی حقیقت ان تمام بیٹھنوں سے بالکل الگ ہے۔وہ بیٹھنا کیا ہے؟ کسی کی محبت کا کسی کے دل میں بیٹھ جانا اور کسی کی عداوت کا کسی کے دل میں بیٹھ جانا۔کسی کی کلام کا کسی کے دل