تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 175 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 175

تصدیق براہین احمدیہ را جز عرب کے نامی شاعر کا قول ہے ۱۷۵ عجبتُ مِنْ نَفْسِى وَمِنْ اَشْفَاقِى وَ مِنْ طَرَاوَى الطَّير عَنْ أَرْزَاقِهَا فِي سَنَةٍ قَدْ كَشَفَتْ عَنْ سَاقِهَا اور جب جنگ کی شدت ہوتی ہے تو کہتے ہیں كَشَفَ الْحَرْبُ عَنْ سَاقٍ یعنی گھمسان کا رن واقع ہوا۔اب اس تحقیق پر آیت شریفہ کا یہ مطلب ہوا کہ جب عبادت کے کمزور کو مرض موت کی شدت انتہا درجہ کو پہنچ جاتی ہے اور بڑا بوڑھایا نا تو ان زار ونزار ہو جاتا ہے۔اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلانے والے موذن نے حَيَّ عَلَى الصَّلَواةِ - حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ كا کلمہ بڑے اونچے منار سے بلند آواز کے ساتھ پکار سنایا۔اور وہ میٹھی آواز سلیم الفطرت ناتواں کے کان میں پہنچی۔اب اس کا دل مسجد کو جانے کے لئے تڑپتا ہے مگر اس وقت وہ مرنے کی حالت میں مبتلا۔اچھی طرح بل جل بھی نہیں سکتا اور دل میں کڑہتا ہے مگر اب اس کڑہنے سے قومی نہیں ہو جاتا۔اسی آیت شریف میں وَقَدْ كَانُوا يُدْعَونَ إِلَى السُّجُودِ کے پیچھے وَهُمْ سَلِمُونَ (القلم: ۴۴) کا کلمہ ان معنی کا قرینہ موجود ہے جس کے معنی ہیں اور تحقیق وہ لوگ بلائے جاتے تھے سجدہ کی طرف جبکہ بھلے چنگے تھے ان معنی کی تصدیق تفسیر کبیر کے جلد نمبر ۸ صفحہ نمبر ۲۷۴ سے بخوبی ہوسکتی ہے۔دوسری توجیہ اس آیت شریف کی اَلسَّاقُ ذَاتُ الشَّيْءِ - وَحَقِيقَةُ الأَمرِ کیا معنی ساق کا لفظ عربی زبان میں کسی چیز کی ذات اور اس کی اصل حقیقت کو کہتے ہیں يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ کے معنے یہ ہوئے۔جس دن اشیا کی اصل حقیقت ظاہر ہو گی اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تعلیمات کے منکر اپنی نافرمانیوں کا بدلہ دیکھیں گے اس وقت اتُـمـامـا للحجة پھر سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے مگر پہلی نافرمانی کا بد نتیجہ یہ ہوگا کہ اس وقت سجدہ نہ کر سکیں گے۔ے تعجب ہے کہ قحط کے دنوں میں جب شدت سے اضطراب واقع ہوا، میں بھوکوں مرنے کے خوف سے پرندوں کو ان کی روزی کھانے سے روکتا تھا۔