تصدیق براھین احمدیہ — Page 274
تصدیق براہین احمدیہ ۲۷۴ مکذب۔اختلاف نمبر ۱۳ شراب کی حرمت مصدق۔شراب کی حرمت کا قرآن میں حکم ہے اور اس پر سخت ممانعت ہے پھر اس میں اختلاف کیا ہوا۔اختلاف تب ہوتا کہ کہیں قرآن میں شراب کی حلت ہوتی اور کہیں حرمت صرف اس میں اختلاف کیا ہوا غور کرو۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ إِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِى الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلوةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ وَأَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَى رَسُولِنَا الْبَاغُ الْمُبِينُ (المائدة: ٩٣٥٩١) ایک ہمارے پرانے دوست نے جس کو اب ہم سے کچھ ایسا تعلق نہیں رہا اور معلوم نہیں ہو سکتا کہ کیوں مگر یہ کہ اس کے جلیں ہی ہم سے ناخوش ہیں ایک دفعہ سوال کیا شراب کی نسبت صریح لفظ حرمت بھی موجود ہے؟ میں نے اس کے آگے پہلی آیت متذکرہ بیان کی اگا اس کو انکاررہا۔اور کہا که صریح حرمت ہو تو مانوں گا۔خاکسار نے اس سے عرض کیا صریح لفظ حرام بھی قرآن میں ہے۔يَسلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمُ كَبِيرُ (البقرة:٢٢٠) اس آیت شریف سے ثابت ہوا شراب میں اثم ہے اور بڑا اثم ہے۔اب اثم کا حکم سنو۔1 بے ریب شراب اور قمار بازی اور بت پرستی اور بدھنی کا ماننا شیطانی نا پاک باتیں ہیں۔ان سے بچے رہو تو کہ نجات پاؤ۔شیطان کا تو منشا یہی ہے کہ شراب اور قمار کے باعث آپس میں تمہاری عداوت و بغض پیدا ہو۔اور تمہیں الہی یاد اور نماز سے اس بہانے سے روک لے۔پس اب بھی ان بُری باتوں سے رکو گے کہ نہیں اور فرمانبردار رہو اللہ ورسول کے اور نافرمانی سے خوف رکھو۔اگر ہمارے حکموں کو نہ مانو گے تو جان رکھو ہمارے رسول کے ذمہ تو اتنا ہی تھا کہ اس نے کھول کر سنا دیا۔لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے تو کہہ دے ان دونوں میں بڑی بدی ہے۔اور یہ دونوں بڑے اثم ہیں۔