تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 273 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 273

تصدیق براہین احمدیہ ۲۷۳ کرنے والا ، اس امید پر بُری سے بُری بی بی کے ساتھ بھی کتنا سلوک کرے گا۔قرآن نے دو ہی صورتیں طلاق کے جواز کے لئے رکھی ہیں اور ان دونوں صورتوں میں طلاق کا ہونا کمال حکمت پر مبنی ہے کیونکہ وہ دونوں صورتیں اصل منشا نکاح کے خلاف ہیں اول زنا جیسے فرمایا۔وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا أَتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ (النساء : ٢٠) لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ (الطلاق:٢) دوم۔بد چلنی اور با ہمی جھگڑا اور فسادمنزل لاکن اس میں بھی پہلے مصالحت کی تمام تدابیر کی جاویں تب طلاق دیں جیسے فرمایا۔وَالَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا (النساء: ۳۵) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيْدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا (النساء: (٣٦) سوم۔طلاق دینے پر ایک زبر دست جرمانہ رکھا ہے۔وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَأَتَيْتُمْ إِحْدُهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إلى بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيْثَاقًا غَلِيظًا (النساء: ۲۲،۲۱) چہارم۔یہ حکم جس کو مکذب نے لکھا ہے غالباً اس صورت میں ہے جہاں میاں بی بی میں خلوت ہی نہیں ہوئی گویا نکاح ہی پورا نہیں ہوا۔ہمارے مولا نا جناب مولوی ابوسعید صاحب نے اشاعۃ السنتہ میں ان مسائل پر مفصل کلام کیا ہے۔افسوس اس سفر میں وہ پرچے پاس نہیں۔ناظرین ان کو ضرور ملا حظہ کریں۔