تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 275 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 275

۲۷۵ تصدیق براہین احمدیہ اقُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَّا وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (الاعراف: ۳۴) ذرہ غور کر وشراب کی ممانعت کس زور سے فرمائی ہے۔تکذیب صفحہ نمبر ۱۰۰ مکذب براہین اختلاف نمبر ۵ عام مسلمانوں کے لئے چار چار ، اور محمد صاحب کو ۹۔۱۱۔۱۸ بلکہ لا انتہا قرآن سورہ احزاب۔مصدق۔منشی صاحب! آپ کی عربی دانی کا میں قائل ہو جاؤں اگر بنام خدا سورہ احزاب وغیرہ میں سے نو اور گیارہ اور اٹھارہ اور لا انتہا کا حکم نکال دو۔آپ کے لا انتہا کہنے کی راستی سورہ احزاب کی آیت ذیل سے ظاہر ہے " لا يحل لك النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجِ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ (الاحزاب : ۵۳) سورہ احزاب کی اس آیت سے تو آپ کا لا انتہا کہنا بالکل غلط معلوم ہوتا ہے۔مکذب براہین کے نزدیک نمبر ۱۶ اور نمبر ۱۷ میں قرآنی اختلاف یہ ہیں۔بیت المقدس کی طرف سجدہ کرو مکہ کی طرف سجدہ کرو پہلا حکم منسوخ ہوا۔منشی صاحب کہیں تو فطرت و عقل سے بھی کام لیا ہوتا۔کیا کرتے ہو۔کہاں قرآن میں لکھا ہے کہ بیت المقدس کی طرف سجدہ کرو۔اور نہ قرآن میں لکھا ہے کہ اب یہ حکم منسوخ ہوا۔قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ بیت المقدس کی طرف سجدہ کرو۔اصل بات یہ ہے کہ ہر ایک مذہب میں دو قسم کے احکام ہوا کرتے ہیں چاہے یہ تقسیم عرفاً اور رسما ہو جاوے۔چاہے حکما۔ایک قسم کے لے تو کہہ دے ہر ایک ظاہری اور باطنی بے حیائی کو اور اثم و ناحق کی بغاوت اور شرک کو جس کم بخت کے واسطے اللہ نے کوئی ثبوت کی وجہ نہیں بتائی۔اور اس امر کو کہ خدا پر ایسی باتیں بناؤ جس کا تم کوعلم نہیں۔میرے اللہ نے حرام کر دیا ہے۔ہے ان بیبیوں کے بعد تجھے کوئی بی بی حلال نہیں۔اور نہ یہ امر تجھے جائز ہے کہ ان کے بدلہ میں اور بیبیاں بنالے اگر چہ تجھے کیسی پسند آویں مگر وہی عورتیں جن کا تو مالک ہو چکا۔