تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 25

تصدیق براہین احمدیہ ۲۵ تمام سلیم الفطرتوں کا اعتقاد ہے۔جب ارواح اللہ تعالیٰ کے رحم یا عدالت یا دونوں سے بری الذمہ اور غیر مجرم ٹھہریں گے یا جب ارواح اپنے اعمال بد کی سزا الہی عدالت سے پا چکیں گے۔تو وہ نجات پا کر اعلی درجہ کی نیکی حمد اور ثنائے الہی میں مشغول رہیں گے اور ہمیشہ فرمانبرداری کریں گے اور چونکہ نیک اعمال کا نتیجہ ہمیشہ آرام ہی ہوتا ہے اس لئے وہ ہمیشہ کے آرام اور سد یو کال کے آنند میں مسرور ہوں گے۔غیر محدود زمانہ میں اُن کے محدود اعمال کا نتیجہ یا ان کے غیر محدود اعمال کا ثمرہ جن کو وہ غیر محدود زمانہ میں کرتے رہیں گے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ابدی نجات بے انت سکھ ہوگا۔آپ کے پاس کون سی دلیل ہے کہ محدود اعمال کا نتیجہ غیر محدود آرام نہیں ہوسکتا ؟ کیا فضل الہی محدود ہے؟ غیر محدود نہیں؟ یا اس میں کمی ہے؟ بطور آپ کے بھی میں اس مشکل کو حل کر دیتا ہوں کیونکہ یہاں فضل کا بیان ہے۔آپ نے تکذیب کے صفحہ دوسو میں میں’اعمال محدودہ کے عوض غیر محد و دنجات کا ملنا اسنبہو یا محال کہا ہے۔حالانکہ یہ صرف آپ کا دعوی ہے جو دلیل نہیں رکھتا آپ نے محدود کاموں کا پھل غیر محدود ملنا اپنی عقل سے جس کو آپ نے سلیم مان رکھا ہے پسند نہیں کیا حالانکہ روح کا تقاضا یہ نہیں۔حل اشکال یوں ہے ” نیک اعمال کا نتیجہ اللہ کے فضل سے وہ آرام ہو گا جس کو اہل اسلام جنت اور تم لوگ خوشی کا مقام کہتے ہو۔وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِى أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُوْنَ (الزخرف:۷۳) انسان کو بلحاظ انسانیت ضرور ہے اپنے خالق اپنے رازق اپنے محسن رحیم اور کریم مالک کی حمد اور ثنا کرے اور اسی کے شکریہ میں مشغول رہے۔اور اس کے بعد تمام خلق سے عموماً اور ابناء جنس سے خصوصاً پیار اور محبت کرے اور بنی نوع سے برادرانہ برتاؤ سے پیش آوے۔اور بغض و کینہ سے پاک رہے اب قرآن کریم پر نظر کرو اس میں اہل جنت کی نسبت کیا تذکرہ ہے اور اس آرام گاہ میں لا اور یہی وہ جنت ہے جس کے وارث اپنے اعمال کے سبب تم ہوئے۔