تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 26 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 26

تصدیق براہین احمدیہ ۲۶ پہنچنے کے بعد کیسے صلح آمیز اور با امن انجمن کا ذکر فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُمْ بِإِيْمَانِهِمْ ۚ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهرُ فى جَنَّتِ النَّعِيمِ دَعْوبُهُمْ فِيهَا سُبْحَنَكَ اللهُمَّ وَتَغَيَّتُهُم فِيهَا سَلَمُ ۚ وَاخِرُ دَعْونَهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (يونس :۱۱،۱۰) وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاءُ وُهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَلِدِينَ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ۚ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَمِلِينَ (الزمر: ۷۵،۷۴) جنت میں باہمی تعلقات کیسے ہوں گے وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُقْبِلِينَ لَا يَمَسُّهُمُ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ (الحجر : ۴۹،۴۸) مسلمانو! کیا تم اسی دنیا میں اسلام کی برکت سے اَصبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (ال عمران :۱۰۴) کے مخاطب نہیں ہو چکے ؟ اب تم کو کیا ہو گیا ؟ کیا بغضبه اعداء تو نہیں ہو گئے ؟ غور کرو مَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ کا جملہ دوام نجات کا مثبت ہے اور جس آیت کو مکذب نے تکذیب کے صفحہ ۲۲۰ میں لکھا ہے اس کا جواب موقع پر دیں گے یہاں اتنا یا در ہے اس السموت کا الف و لام جو آیت مَا دَامَتِ السَّموتُ وَالْاَرْضُ میں خصوصیت کے معنی ے یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ان کا رب انہیں راحت کی جنتوں میں لے جاوے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ان کی پکاران ( جنتوں ) میں ہوگی ، اے اللہ تو قدوس ہے! اور ان کی باہمی دعا و سلام کی باتیں امن اور سلامتی ہوں گی۔اور آخری پکار ان کی یہ ہوگی کہ اللہ رب العالمین کی حمد ہو۔جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جنت کو گروہ گروہ میں انہیں لے چلیں گے۔جب اس کے پاس آویں گے اور اس کے دروازے کھوتے جائیں گے جنت کے نگہبان انہیں کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم نے پاک زندگی بسر کی تو اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے درآؤ۔اور وہ (بہشتی ) کہیں گے اللہ کی حمد ہے جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا اور اس زمین کا وارث ہمیں بنایا۔اس جنت میں جہاں ہم چاہیں ٹھکانا بنالیں عاملوں کا اجر کیا ہی خوب ہے۔سے اُن (اہل بہشت ) کے دلوں میں کوئی ( دنیوی) بغض رہا بھی ہو گا تو ہم اسے نکال ڈالیں گے(وہاں) وہ بھائی بن کر چوکیوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے۔وہاں انہیں کوئی دکھ درد نہ ہوگا اور نہ وہ نکالے جائیں گے۔